بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شعبان 1445ھ 01 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

جنات کی مالی مدد کرنے اور ایصال ثواب کرنے کا حکم


سوال

میں ایک سید گھرانے سے ہوں، گزشتہ 2 سالوں سے میرا جنات کے پورے خاندان سے نہایت گہرا تعلق بنا ہوا ہے جو کہ میری بیوی پرآکر مجھ سے ملتے ہیں اور یوں معاملات آگے بڑھتے ہیں، اب تک ان جنات کی طرف سے بلکہ اور کئی جنات کی طرف سے مجھے عطر اور مختلف قسم کی خوشبو کی شکل میں کئی تحائف بھی وصول ہوچکے ہیں، ان کےگھر کا سربراہ ایک نہایت نیک و صالح مومن تھا، ان کے ایک دوست کا دوست تابعین میں سے تھا، میں ان کے اس دوست سے ملاقات بھی کرچکا ہوں، میں اور میری بیوی اس خاندان کی بھرپور کفالت کررہے ہیں، زندگی کے ہر موڑ پر خوشی اور غم میں ہم شریک رہتے ہیں، گھر کا سربراہ فوت ہوچکا ہے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ:

(1) کیا فوت شدہ جنات کے لیے دعااورایصال ثواب کیا جاسکتا ہے؟

(2) کیا غیرمسلم جنات کی مالی مدد (زكات سے)کی جاسکتی ہے؟

جواب

(1) واضح رہے کہ ایصالِ ثواب صرف مکلفین کو کیا جاتا ہے اور انسانوں کی طرح جنات بھی مکلف ہیں لہذا مسلمان جنات کے لیے  ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے۔

(2) جنات کو زکوۃ دینا جائز نہیں چاہے مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔

تفسیرابن کثیر میں ہے:

"ثم قال: {وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون} أي: إنما خلقتهم ‌لآمرهم ‌بعبادتي، لا لاحتياجي إليهم."

(الذاريات، 52، ج:7، ص:425، ط:دار طيبة للنشر والتوزيع)

صحیح البخاری میں ہے:

"عن ‌ابن عباس رضي الله عنهما قال: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمعاذ بن جبل، حين بعثه إلى اليمن: إنك ستأتي قوما أهل كتاب، فإذا جئتهم فادعهم إلى: أن يشهدوا أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله، فإن هم أطاعوا لك بذلك، فأخبرهم أن الله قد فرض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة، فإن هم أطاعوا لك بذلك، فأخبرهم أن الله قد فرض عليهم ‌صدقة ‌تؤخذ ‌من ‌أغنيائهم فترد على فقرائهم، فإن هم أطاعوا لك بذلك، فإياك وكرائم أموالهم."

(كتاب الزكاة، ‌‌باب أخذ الصدقة من الأغنياء وترد في الفقراء حيث كانوا، ج:2، ص:128، ط:دار طوق النجاة)

نہایۃ المحتاج الی شرح المنھاج میں ہے:

"هل يشترط فيمن تدفع إليهم الزكاة كونهم من بني آدم أو لا حتى لو علم استحقاق جماعة في البلد من الجن يجوز دفعها إليهم؟ فيه نظر، والأقرب أنه لا يجزئ الدفع للجن لقوله في الحديث «صدقة تؤخذ من أغنيائهم فترد على فقرائهم» إذ الظاهر منه أن الإضافة فيه للعهد والمعهود فقراء بني آدم."

(كتاب الزكاة،  فصل في قسمة الزكوة بين الاصناف، ج:6، ص:165، ط:دارالفکر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144406100650

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں