بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 رجب 1442ھ 27 فروری 2021 ء

دارالافتاء

 

جنات کا جنت و جہنم میں جانا / جنت کی زبان


سوال

کیا جنات  جنت جہنم میں جائیں گے؟ جنات کی زبان کون سی ہوتی ہے؟

جواب

کافر جنات جہنم میں بالاتفاق جائیں گے، اور انہیں جہنم میں عذاب ہوگا، البتہ نیک مسلمان جنات جنت میں جائیں گے یا نہیں ہے؟  اس میں محققین علماءِ کرام کے چار اقوال ہیں:

(1) جنت میں جائیں گے۔

(2) وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے، بلکہ جنت کے مضافات میں ہوں گے اور انسانوں کو دیکھیں گے، اور انسان ان کو نہیں دیکھ سکیں گے۔

(3) یہ جنت اور جہنم کے درمیان جگہ ”اعراف“ میں ہوں گے۔

(4) بعض علماءِ کرام نے اس میں توقف کیا ہے۔

ان میں سے پہلا قول جمہور علماء کرام کا ہے اور یہی راجح ہے وہ جنت میں بھی جائیں گے۔

2۔۔ انسانوں کی طرح مختلف علاقوں میں رہنے والے جنات کی بھی مختلف زبانیں ہوتی ہیں جس میں وہ بات چیت کرتے ہیں۔

آكام المرجان في أحكام الجان (ص: 91):

"اتّفق الْعلمَاء على أَن كَافِر الْجِنّ معذب فِي الْآخِرَة كَمَا ذكر الله تَعَالَى فِي كِتَابه الْعَزِيز كَقَوْلِه تَعَالَى {فَالنَّار مثوى لَهُم} وَقَوله تَعَالَى {وَأما القاسطون فَكَانُوا لِجَهَنَّم حطبا} وَالله أعلم ...  الْبَاب الرَّابِع وَالْعشْرُونَ فِي دُخُول مؤمنيهم الْجنَّة : اخْتلف الْعلمَاء فِي مؤمني الْجِنّ هَل يدْخلُونَ الْجنَّة على أَرْبَعَة أَقْوَال: 
أحدها: أَنهم يدْخلُونَ الْجنَّة وَعَلِيهِ جُمْهُور الْعلمَاء وَحَكَاهُ ابْن حزم فِي الْملَل عَن أبن أبي ليلى وَأبي يُوسُف وَجُمْهُور النَّاس قَالَ: وَبِه نقُول ... 

القَوْل الثَّانِي: أَنهم لَايدْخلُونَهَا بل يكونُونَ فِي ربضها يراهم الْإِنْس من حَيْثُ لَا يرونهم، وَهَذَا القَوْل مأثور عَن مَالك وَالشَّافِعِيّ وَأحمد وَأبي يُوسُف وَمُحَمّد حَكَاهُ ابْن تَيْمِية فِي جَوَاب ابْن مرى وَهُوَ خلاف مَا حَكَاهُ ابْن حزم عَن أبي يُوسُف ...

القَوْل الثَّالِث: أَنهم على الْأَعْرَاف وَفِيه حَدِيث مُسْند سَيَأْتِي ذكره إِن شَاءَ الله تَعَالَى.

القَوْل الرَّابِع الْوَقْف."

إحياء علوم الدين (2/ 367):

"كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْصَحَ النَّاسِ مَنْطِقًا وَأَحْلَاهُمْ كَلَامًا وَيَقُولُ: أَنَا أَفْصَحُ الْعَرَبِ، وإن أهل الجنة يتكلمون فيها بلغة محمد صلى الله عليه وسلم".

المستدرك على الصحيحين للحاكم (4/ 97):

"عن ابن عباس، رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أحبوا العرب لثلاث: لأني عربي والقرآن عربي وكلام أهل الجنة عربي " تابعه محمد بن الفضل، عن ابن جريج ... حدثناه أبو عبد الله محمد بن بطة الأصبهاني، ثنا عبد الله بن محمد بن زكريا، ثنا إسماعيل بن عمرو، ثنا محمد بن الفضل، عن ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس، رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «احفظوني في العرب لثلاث خصال لأني عربي والقرآن عربي ولسان أهل الجنة عربي» قال الحاكم رحمه الله تعالى: «حديث يحيى بن يزيد، عن ابن جريج حديث صحيح، وإنما ذكرت حديث محمد بن الفضل متابعا له، والمتأمل بقول المصطفى صلى الله عليه وسلم كلام أهل الجنة عربي متهاون بالله ورسوله صلى الله عليه وسلم فإن شواهده تنذر بالوعيد منه صلى الله عليه وسلم لمن يختار الفارسية على العربية نطقا وكتابة، وقد روينا في ذلك أحاديث فمنها»".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201187

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں