بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

جن کتابوں میں اذان کے وقت انگوٹھا چومنے کا ذکر ہے ان کا حکم


سوال

علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ اپنے مشہور و معروف فتاویٰ رد المحتار علی الدر المختار میں فرماتے ہیں : ’’مستحب ہے کہ اذان کی پہلی شہادت سننے پر صَلَّی اﷲُ عَلَيْکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ اور دوسری شہادت سننے پر"قُرَّةُ عَيْنِی بِکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ "کہا جائے، اور پھر اپنے دونوں انگوٹھوں کے ناخن چوم کر اپنی آنکھوں پر رکھ کر کہو :"اَللّٰهُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ "کیونکہ بے شک حضور نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا کرنے والے کو اپنے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔‘‘ ابن عابدين شامی، رد المحتار، 1 : 398 علامہ طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں : ’’قہستانی نے کنز العباد سے نقل کیا ہے کہ بے شک جب اذان میں پہلی بار"اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ "سنے تو اس کے جواب میں" صَلَّی اﷲُ عَلَيْکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ"کہے اور دوسری بار سنے تو دونوں انگوٹھوں کے ناخن چومتے ہوئے یہ کہے :"قُرَّهُ عَيْنِی بِکَ يَارَسُوْلَ اﷲِ، اَللّٰهُمَّ مَتِّعْنِی بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ." ایسا کرنا مستحب ہے اور بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا کرنے والے کو جنت میں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔‘‘ طحطاوی، حاشيه علی مراقی الفلاح شرح نور الايضاح، 1 : 138  فقہاء کی ان عبارتوں سے اذان اور اقامت میں انگوٹھے چومنے کا استحباب ثابت ہوتا ہیں مگر علماء دیوبند اس پر عمل کیو ں نہیں کرتے ؟

جواب

واضح رہے کہ اذان کے وقت انگوٹھے چومنے اورآنکھوں سے لگانے کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے اورنہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اوربعد کے خیرالقرون میں اس کاثبوت ملتاہے،اسی وجہ سے اس عمل کو بعد والے علماء نے ناجائزاوربدعت بتایاہے ،اورجن احادیث سے اس بارے میں استدلال کیاجاتاہے ان کے بارے میں محدثین کا اتفاق ہے کہ وہ سب موضوع  (من گھڑت) یا انتہائی ضعیف ہیں ،اورعلامہ شامی رحمہ اللہ نے اس مسئلہ اورروایات کے مأخذ میں کنز العباد، قہستانی، کتاب الفردوس اور فتاویٰ صوفیہ کا حوالہ دیا ہے اورعلامہ طحطاوی رحمہ اللہ نے کتاب الفردوس اور کنز العباد کا حوالہ دیا ہے ،مجموعی طور پر مذکورہ تمام کتب غیر معتبر ہیں، ان کتب کے صرف وہ مسائل معتبر شمار ہوں گے، جن کی تائید دوسری معتبر کتب سے ہو جائے۔

الموضوعات الکبریٰ للقاري میں ہے:

" بسند فیه مجاهیل مع انقطاعه."

(حرف المیم، رقم الحدیث:829، ص: 210، ط:قدیمي کتب خانہ)

       فتاوی شامی میں ہے:

"وذكر ذلك الجراحي وأطال، ثم قال: ‌ولم ‌يصح ‌في ‌المرفوع ‌من ‌كل هذا شيء ."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب الأذان،( فائدة)التسليم بعد الأذان، ج:1، ص:390، ط:سعيد)     

النافع الکبیر علی الجامع الصغیر مقدمة الجامع الصغیر" میں ہے:

"وکذا”کنز العباد “فإنہ مملوءٌ من المسائل الواھیة والأحادیث الموضوعة، لا عبرةَ لہ، لا عند الفقھاء ولا عند المحدثین، قال علي القاري فيطبقات الحنفیة: ”علي بن أحمد الغوري…… ولہ ”کنز العبادفي شرح الأوراد“، قال العلامة جمال الدین المرشدي: فیہ أحادیث موضوعة لا یحل سماعھا، انتھیٰ․"

( الفصل الأول في ذکر طبقات الفقھاء والکتب،ص:27، ط:إدارة القرآن کراتشي)

وفيه ايضاً:

"وقال المولیٰ عصام الدین في حق القھستاني: ”إنہ لا یعرف الفقہَ ولا غیرَہ بین أقرانہ ویوٴیدہ أنہ یجمع في شرحہ ھٰذا بین الغث والسمین، والصحیح والضعیف من غیر تصحیح ولا تدقیق، فھو کحاطب اللیل جامع بین الرطب والیابس في النیل، وھو العوارض في ذم الروافض، إلخ"․

( الفصل الأول في ذکر طبقات الفقھاء والکتب،ص:27، ط:إدارة القرآن کراتشي)

وفيه يضاً:

”والحکم في ھٰذہ الکتب الغیر المعتبرة أن لا یُوٴخَذ منھا ما کان مخالفاً لکتب الطبقة الأعلیٰ، ویُتوقَّفُ في ما وُجِد فیھاما لم یدخُل ذالک في أصلٍ شرعيٍ“․

( الفصل الأول في ذکر طبقات الفقھاء والکتب،ص:27، ط: إدارة القرآن کراتشي)

کشف الظنون عن أسامی الکتب والفنون میں ہے:

”الفتاویٰ الصوفیة في طریق البھائیة“ لفضل اللہ محمد بن أیوب المنتسب إلیٰ ماجو․ قال صاحب کشف الظنون: قال المولیٰ البرکلي: الفتاویٰ الصوفیة لیست من الکتب المعتبرة، فلا یجوز العمل بما فیھا إلا إذا علم مواقفقتھا للأصول“․

( حرف الفاء:ج:2، ص:1225،  ط:دار إحیاء التراث العربي، بیروت)

تنقیح فتاویٰ الحامدیة "میں ہے:

"”والقھستاني“ کجارف سیل وحاطب لیل․"

( کتاب الحظر والإباحة: ج:2، ص:356،ط: حقانیة․وکذا في عمدة الرعایةعلی شرح الوقایة، ص:10، ط: مکتبة إمدادیة، ملتان)

منھاج السنة النبویةلابن تیمیة"  میں ہے:

”کتاب الفردوس فیه من الأحادیث الموضوعات ما شاء اللہ ومصنفه شیرویه بن شھردار الدیلمي وإن کان من طلبة الحدیث ورواته، فإن هذہ الأحادیث التي جمعھا وحذف أسانیدها نقلھا من غیر اعتبار لصحیحھا و ضعیفھا وموضوعھا، فلھٰذا کان فیه من الموضوعات أحادیث کثیرة جداً."

(الفصل الخامس، ج:7، ص:110، ط:موٴسسة قرطبة)

وفيه ايضاً:

”کتابُ الفردوس للدیلمي فیه موضوعاتٌ کثیرةٌ، أجمَع أهلُ العلم علی أنَّ مجرد َکونِه رواہ لا یدلُّ علي صحَّةِ الحدیثِ“․

(الفصل الثاني عشر، ج:5، ص:39، ط:موٴسسة قرطبة)

جمع الجوامع میں ہے:

 ”کل ما عُزِيَ لھٰوٴلاء الأربعة-أي: الضعفاء للعقیلي، الکامل لابن عدي، التاریخ للبُغدادي، التاریخ لابن عساکر- أو للحکیم الترمذي في نوادر الأصول أو للحاکم في تاریخہ أو لابن جارود أو للدیلمي في مسند الفردوس فھو ضعیفٌ، فلیستغنِ بالعَزْوِ إلیھا أو إلیٰ بعضھا عن بیان ضُعفه “․

(دیباجة قسم الأقوال من جمع الجوامع (الجامع الکبیر)، ج:1، ص:21، ط: دارالکتب العلمیة)

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

"سوال:اذان میں بوقتِ شہادتین انگوٹھا چومنا اور آنکھوں سے لگانا اور قرۃ عینی بک یا رسول اللہ پڑھنا کیسا ہے۔

جواب: علامہ شامی نے کنز العباد سے نقل کیا ہے کہ شہادتین کے وقت اذان میں ایسا کرنا مستحب ہے، پھر جراحی سے نقل کیا ہے، ولم يصح في المرفوع من كل هذا شيئ، اور نہیں صحیح ہوا مرفوع  حدیث میں اس میں سے کچھ، اس سے معلوم ہوا کہ سنت سمجھ کر یہ فعل کرنا صحیح نہیں ہے، چونکہ اس زمانہ میں اکثر لوگ اس کو سنت سمجھ کر کتے ہیں اور تارک کو ملام ومطعون کرتے ہیں، اس لیے اس کو علمائے محققین نے متروک کردیا ہے۔"فقط

(کتاب الصلاۃ، الباب الثانی فی الاَذان،ج:2، ص:71، ط:دارالاِشاعت)

کفایت المفتی میں ہے:

"سوال:بے شک حدیث صدیق اکبر(رضی اللہ عنہ)موضوع ہےلیکن شامی نے لکھا ہے کہ تقبیل ظفر ابہامین عند استماع اسمہﷺ عند الاَذان جائز ہے؟

جواب:شامی نے اس مسئلے کو قہستانی سے اور قہستانی نے کنزالعباد سے نقل کیا ہے، نیز شامی نے فتاویٰ صوفیہ کا حوالہ دیا ہے ، کنز العباد اور فتاویٰ صوفیہ دونوں قا بلِ فتویٰ دینے کے نہیں ہیں، اور جب کہ حدیث کا ناقابلِ استد لال ہونا ثابت ہے تو پھر اس کو سنت ہا مستحب سمجھنا بے دلیل ہے ،اور اس کے تارک کو ملامت یا طعن کرنا مذموم ہے، زیادہ سے زیادہ اس کو بطورِ علاجِ رمد کے ایک عمل سمجھ کر کوئی کرلے تو مثل دیگر اعمال کے مباح ہوسکتاہے، اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت ثابت نہیں۔" واللہ اَعلم

(کتاب الصلاۃ، پہلا باب اذان و تکبیر، اذان میں بوقتِ شہادتین انگوٹھے چومنا، ج:3، ص:47، ط:دارالاِشاعت)

فقط واللہ اَعلم


فتوی نمبر : 144411100995

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں