بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

موجودہ دور میں جہاد کا حکم


سوال

کیا آج کل جہاد فرض عین ہے یانہیں ؟

جواب

جہادکا  فرض عین اورفرض کفایہ ہوناحالات وواقعات پرمنحصرہے،کتب فقہ میں مذکورہے کہ کسی بستی پرکفارحملہ کردیں توا س بستی کے رہنے والوں پرجہادفرض ہوجاتاہے،اوراگراس بستی کے افرادکافی نہ ہوں توقریب ترین بستی کے لوگوں پرجہادفرض ہوجاتاہے،اوراسی طرح اگرمسلمانوں کاحاکم یہ اعلان کردے کہ تمام لوگ جہادکے لیے نکل کھڑے ہوں تواس صورت میں جن جن لوگوں پروہ اعلان عائدہوتاہے ان پرجہادکے لیے نکلنالازم ہوگا،جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پراعلان فرمایاتھا،ان دوصورتوں کے علاوہ دیگرمواقع پرجہادفرض عین نہیں ہوتافرض کفایہ ہوتاہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’ وعامة المشايخ رحمهم الله تعالى قالوا الجهاد فرض على كل حال غير أنه قبل النفير فرض كفاية وبعد النفير فرض عين وهو الصحيح، ومعنى النفير أن يخبر أهل مدينة أن العدو قد جاء يريد أنفسكم وذراريكم وأموالكم فإذا أخبروا على هذا الوجه افترض على كل من قدر على الجهاد من أهل تلك البلدة أن يخرج للجهاد وقبل هذا الخبر كانوا في سعة من أن يخرجوا، ثم بعد مجيء النفير العام لا يفترض الجهاد على جميع أهل الإسلام شرقا وغربا فرض عين وإن بلغهم النفير، وإنما يفرض فرض عين على من كان يقرب من العدو، وهم يقدرون على الجهاد.أما على من وراءهم ممن يبعد من العدو، فإنه يفترض فرض كفاية لا فرض عين حتى يسعهم تركه، الخ‘‘۔

(ج:2،ص؛188،ط:ماجدیہ)

بدائع الصنائع میں ہے:

’’ و أما بيان كيفية فرضية الجهاد، فالأمر فيه لايخلو من أحد وجهين، إما إن كان النفير عامًا (وإما) إن لم يكن فإن لم يكن النفير عامًا فهو فرض كفاية، و معناه: أن يفترض على جميع من هو من أهل الجهاد، لكن إذا قام به البعض سقط عن الباقين ... هذا إذا لم يكن النفير عامًا، فأما إذا عم النفير بأن هجم العدو على بلد، فهو فرض عين يفترض على كل واحد من آحاد المسلمين ممن هو قادر عليه؛ لقوله سبحانه و تعالى: {انفروا خفافا وثقالا} [التوبة: 41] قيل: نزلت في النفير.‘‘

 (ج:7،ص:98،ط:دارالکتب العلمیہ بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403102345

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں