بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

جہیز میں تصرف کرنے کاحکم


سوال

میری پہلی بیوی کو طلاق ہو گئی ہے،اب انہوں نے کیس کروایا ہوا ہے عدالت میں، اب ان کا سامان جہیز میں سے کچھ چیزیں میرے زیر استعمال ہیں ہمارا ارادہ ہے کہ جب وہ سامان اٹھائیں گے تو ہم ان کو اس کی جگہ نیا لے کے دیں گے۔

جواب

واضح  رہے کہ  جہیز میں ملا ہوا سامان بیوی کی ملکیت ہو تا ہے ،بیوی کی اجازت کے بغیر اس کی ملکیت کے سامان میں کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں ہے ۔

لہذا صورت مسئولہ میں  سائل کے لیے (پہلی) بیوی کی اجازت کے بغیر اس کے سامان میں تصرف کرنا جائز نہیں ہے ، سائل کو چاہیے کہ (پہلی )بیوی کا جتنا سامان ہے  اس کو واپس کیا جائے ۔ 

شرح مجلہ  میں ہے :

"لایجوز لأحد أن یتصرف في ملك غیره بلا إذنه أو وکالة منه أو ولایة علیه،وإن فعل کان ضامنًا."

(61/1 مادة: 96، دار الکتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے :

 "فإن کل أحد یعلم أن الجھاز ملك المرأۃ، وأنه إذا طلقها تأخذه كله ،وإذا ماتت یورث عنھا."

(کتاب الطلاق ،باب النفقۃ،مطلب فیما لو زفت إلیہ بلا جھاز:585/3، سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144401100466

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں