بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو ڈرانے کے لیے طلاق نامہ بنانے کو کہا، بغیر پڑھے بغیر دستخط کیے اپنے پاس رکھ دیا


سوال

میرے بیوی دس سے بارہ مرتبہ  گھر یلو ناچاقی کی وجہ سے اپنے میکے  چلی گئی تھی ، یعنی  ہر تھوڑے دن بعد کسی نہ کسی وجہ سے میکے چلی جاتی تھی ، پھر بڑے بیٹھ کر اس کو واپس لےآتے تھے ، تو میں نے اس کو  ڈرانے  کے لیے ایک طلاق نامہ  بنوایا جس پر میں نے  دستخط بھی نہیں کیا اور نہ طلاق نامہ بیوی کو دیا، بس اپنے پاس ہی رکھا  ، پھر کسی وجہ سے جماعت والوں کو یہ بات معلوم ہوئی  کہ میں نے طلاق  نامہ بنوایا ہے ، انہوں نے مجھ سے  پوچھا  کہ تم نے طلاق نامہ  بنوایا ہے ؟ تو میں نے کہا کہ ہاں میں نے ڈرانے کے لیے  بنوایا ہے ، لیکن میں نے اس پر دو گواہ نہیں بنائے تھے  کہ میں   جھوٹا طلاق نامہ بنوارہاہوں ، صرف بیوی کو ڈرانے کےلیے ایسے کیاتھا ،  جب میں کورٹ  میں  جب طلاق نامہ بنوانے گیا تھا تو اس نے مجھ سے صرف شناختی کارڈ لے کر   نام پو چھا  تھا بس ، باقی نہ میں نے اس کو بتایا کہ ایک طلاق کا بناؤ  یاتین طلاق کا نہ،  اس نے مجھ سے پو چھا کہ تین طلاق کا بناوں؟ ،نہ بنانے کے بعد  مجھے پڑھ کر سنایا  ،بس اس نے مجھے  بناکر دیا اور میں نے لے کر  جیب میں رکھ لیا  ، دستخط بھی نہیں کیا اور نہ میں نے طلاق نامہ پڑھاہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ : میری بیوی پر طلاق واقع ہوگئی ہے یانہیں ؟اگر واقع ہوگئی ہے تو کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں ؟

جواب

صور ت مسئولہ میں اگرواقعۃ سائل نے 3جون 2021 کو طلاق نامہ بنانے والے کو طلاق نامہ بنانے  کا کہاتھا ، تین طلاقوں کے لکھنے  کا نہیں کہاتھا ، پھر جب  طلاق نامہ بنانے  والے  نے طلاق  نامہ  بنالیا  تو   سائل  نے طلاق نامہ  نہ خود پڑھاہے ،  نہ بنانے والے  نے  پڑھ کر سنایاہے  ،  نہ ہی سائل نے   اس پر دستخط کیاہے اور نہ ہی سائل کو یہ معلوم تھا کہ اس میں تین طلاقیں ہیں  ، تو اس صورت میں سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی  واقع ہو گئی  تھی، اگر آج (نومبر 2021 ء) تک اس کی بیوی  کی  عدت ( تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو  ، اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک ) گزر گئی ہے تو   نکاح ختم ہوچکا ہے، اب رجوع کرنا جائز نہیں ،البتہ اگر میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہنے  پر راضی ہیں تو  نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجود گی میں تجدید ِ نکاح کے بعد  دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں ،  تاہم سائل کے لیےآئندہ  دوطلاقوں کا اختیار ہوگا۔  

رد المحتار میں ہے:

"و إن كانت مرسومةً يقع الطلاق نوى أو لم ينو ...ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة."

و فیه أیضاً:

"و أراد بما اللفظ أو ما يقوم مقامه من الكتابة المستبينة أو الإشارة المفهومة."

   (كتاب الطلاق  ،مطلب فی الطلاق بالکتابۃ،ج 3/ص246/ط،سعید)

بدائع الصنائع میں ہے :

"و كذا التكلم بالطلاق ليس بشرط فيقع الطلاق بالكتابة المستبينة و بالإشارة المفهومة من الأخرس لأن الكتابة المستبينة تقوم مقام اللفظ."

(کتاب الطلاق،فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى الزوج3 /100ط:سعید)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے :

"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع)."

(كتاب الطلاق، مطلب في العقد على المبانة3 /409 ط:سعید)

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144303100756

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں