بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

جھوٹ کہہ کرقرض وصول کرنےکاحکم


سوال

 میرے شوہر روزگار کے حوالے سے کوئی کام نہیں کرتے۔کام مل بھی جائے تو تھوڑے عرصے کے بعد کوئی نہ کوئی وجہ بنا کر چھوڑ دیتے ہیں ۔ پھر اپنے رشتہ دار یا دوست سے حالات کی تنگی کا یا کوئی اور بہانا بنا کر پیسے مانگتے ہیں۔اور ان پیسوں سے گھر کا کچھ سامان لاتے ہیں۔باقی پیسوں کا کیا کرتے  ہیں ؟نہیں معلوم۔ میں نوکریاں کرکے گھر کا خرچہ پورا کرتی ہوں۔ کیا میرے شوہر کے گھر کے خرچ میں دیے گئے پیسے حلال ہیں؟ کیونکہ وہ پیسے جھوٹ بول کر بنا کسی محنت کے حاصل کیے گئے ہیں۔

جواب

جب تک بیوی شوہر کے گھر ہے اس وقت   تک بیوی کے کھانے پینے،رہائش اور دیگر ضروریات  کا انتظام حسبِ استطاعت شوہر پر لازم ہے؛لہذاصورتِ مسئولہ میں سائلہ کےشوہرپرلازم ہےکہ وہ گھرکےاخراجات کابندوبست کرے،تاہم اگرواقعۃ جھوٹ بول کرلوگوں سےقرض وصول کرتاہے،تواس کایہ عمل درست نہیں ہے،اوراس سےشوہرجھوٹ جیسےکبیرہ گناہ کامرتکب  شمارہوگا،تاہم جھوٹ بول کرشوہرجوقرض وصول کرلے،سائلہ کےلیےوہ پیسےحلال ہوں گے،اورسائلہ کےلیےاس کااستعمال کرناجائزہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"‌‌باب النفقة هي لغة: ما ينفقه الإنسان على عياله وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام."

(کتاب الطلاق، باب النفقة، ص:572، ج:3، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"قال في البحر: واتفقوا على وجوب نفقة الموسرين إذا كانا موسرين، وعلى نفقة المعسرين إذا كانا معسرين وإنما الاختلاف فيما إذا كان أحدهما موسرا والآخر معسرا، فعلى ظاهر الرواية الاعتبار لحال الرجل، فإن كان موسرا وهي معسرة فعليه نفقة الموسرين، وفي عكسه نفقة المعسرين. وأما على المفتى به فتجب نفقة الوسط في المسألتين وهو فوق نفقة المعسرة ودون نفقة الموسرة."

(کتاب الطلاق، باب النفقة، ص:574، ج:3، ط:سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما ‌حكم ‌القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية."

(كتاب القرض، فصل في حكم القرض،٣٩٦/٧،ط:دارالكتب العلمية)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"مطل المدين الموسر القادر على قضاء الدين بلا عذر وذلك بعد مطالبة صاحب الحق، فإنه حرام شرعا، ومن كبائر الإثم، ومن الظلم الموجب للعقوبة الحاملة على الوفاء ، لقول النبي صلى الله عليه وسلم: مطل الغني ظلم،  قال ابن حجر: المعنى أنه من الظلم، وأطلق ذلك للمبالغة في التنفير من المطل  ، وقال ابن العربي: مطل الغني ظلم إذا كان واجدا لجنس الحق الذي عليه في تأخير ساعة يمكنه فيها الأداء ، وقال الباجي: وإذا كان غنيا فمطل بما قد استحق عليه تسليمه فقد ظلم ، ولقول النبي صلى الله عليه وسلم قال: لي الواجد يحل عرضه وعقوبته، ومعنى " يحل عرضه أي يبيح أن يذكره الدائن بين الناس بالمطل وسوء المعاملة .قال ابن القيم: ولا نزاع بين العلماء في أن من وجب عليه حق من عين أو دين، وهو قادر على أدائه، وامتنع منه، أنه يعاقب حتى يؤديه."

(حرف الميم،١١٧/٣٨،ط:دار الصفوة - مصر)

 

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144409100021

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں