بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

جھوٹ کی عادت کیسے ختم کی جائے؟


سوال

میرے بچے میں بری عادت ظاہر ہوئی ہے کہ چھوٹی چھوٹی بات پر جھوٹ بولتا ہے، کوئی وظیفہ بتائیں۔

جواب

واضح رہے کہ جھوٹ بولنا مسلمان کی شان کے خلاف اور کبیرہ گناہ ہے ، جس سے ہر صورت بچنا ضروری ہے، نیز محض وظائف کے ذریعہ بچہ سچ یا جھوٹ نہیں بولتا اس کے لیے اس کی تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

لہذا سائلہ کو چاہیے کہ اپنے بچے کو سچ بولنے اور جھوٹ سے بچنے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ نماز پڑھنے کی بھی ترغیب دیتی رہے، اس لیے کہ نمازانسان کو برائیوں سے روکتی ہےاور ساتھ ساتھ قرآن کریم کی اس آیت کو اپنا ورد بنالے۔"رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا."(سورة الفرقان: 74)

ترجمہ:" اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری نیک بیبیوں اور ہماری اولاد کی طرف آنکھوں کی ٹھنڈک (یعنی راحت) عطا فرما اور ہم کو متقیوں کا افسربنا دے۔"(بیان القرآن)

ارشاد باری تعالی ہے:

"اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكرِ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ."(سورة العنكبوت:45)

ترجمہ:"یہ کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے آپ اسے پڑھا کیجئے اور نماز کی پابندی رکھئے بے شک نماز (اپنی وضع کے اعتبار سے) بے حیائی اور ناشائستہ کاموں سے روک ٹوک کرتی  رہتی ہے اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے اور اللہ تعالی تمہارے سب کاموں کو جانتا ہے۔"(بیان القرآن)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عليكم بالصدق فإن الصدق يهدي إلى البر وإن البر يهدي إلى الجنة وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا. وإياكم والكذب فإن الكذب يهدي إلى الفجور وإن الفجور يهدي إلى النار وما يزال الرجل يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا."

(كتاب الآداب، باب حفظ اللسان والغيبة والشتم، الفصل الأول، ج:3، ص:1357، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

ترجمہ:"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم پر سچ کہنا لازم ہے، اس لیے کہ سچ نیکی کی طرف لے جاتاہے، اور بے شک نیکی جنت تک لے جاتی ہے، اور آدمی برابر سچ کہتارہتاہے اور سچ کی تلاش میں رہتاہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ''صدیق'' (سچائی کے خاص مقام پر) لکھ دیا جاتاہے۔ اور خبردار تم جھوٹ سے بچ کر رہو ؛ اس لیے کہ جھوٹ گناہ ونافرمانی کی طرف لے جاتاہے، اور گناہ جہنم تک لے جاتاہے، اور آدمی برابر جھوٹ بولتارہتاہے اور جھوٹ کی تلاش میں رہتاہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ''کذاب'' (بڑا جھوٹا) لکھ دیا جاتاہے۔"

فتاوی شامی میں ہے:

"والضابط فيه كما في تبيين المحارم وغيره عن الإحياء أن كل مقصود محمود يمكن التوصل إليه بالصدق والكذب جميعا، فالكذب فيه حرام."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:427، ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144405100274

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں