بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

طلباء کی کم تعداد کے باوجود زیادہ لکھنا


سوال

 میں ایک گورنمنٹ سکول میں استاد ہوں۔ یہاں روزانہ کی بنیاد پر ہمیں ایک روزنامچہ لکھنا ہوتا ہے جس میں اپنی کلاس کے بچوں کی تعداد لکھ کر اپنے دستخط ثبت کرنے ہوتے ہیں۔ کلاس میں طالب علم سارا سال کم یا زیادہ ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن گورنمنٹ کی پالیسی کے مطابق ہم ان کا نام خارج نہیں کرسکتے جو طالب علم کسی وجہ  سے سکول چھوڑ کر چلے گئے ہوں۔ اگر نام خارج کرنے کی صورت نکلتی بھی ہو تو ہمیں اس کی جگہ پر نیا طالب علم داخل کرنا ہوتا ہے۔ اب نئے طالب علم تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔ مثال کے طور پر میری کلاس کے طالب علم آغاز سال میں اڑتیس تھے۔ جب کہ میں نے  بتیس طالب علم ظاہر کر رکھے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ طالب علم چھوڑ کر چلے گئے یوں اب اصل طالب علم اٹھائیس ہیں جبکہ رجسٹر میں تعداد چھتیس ظاہر  کر رکھی ہے کیونکہ درمیان میں محکمہ کی طرف سے سختی آئی کے مزید طالب علم داخل کیے  جائیں۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ روزانہ  کی بنیاد پر  مجھے طالب علموں کی تعداد چونتیس کے لگ بھگ لکھنی ہوتی ہے ۔ جبکہ اصل تعداد اٹھائیس ہے۔ اسی طرح بعض کلاسز میں داخل طلبا اور موجود طلبا کی تعداد تو برابر ہوتی ہے لیکن کسی دن زیادہ بچے چھٹی پر ہوتے ہیں لیکن اساتذہ کو کم تعداد لکھنے کی ہیڈ ماسٹر کی طرف سے بالکل اجازت نہیں ہوتی۔ ہیڈ ماسٹر صاحب تمام حالات سے واقف ہوتے ہیں  لیکن پھر بھی وہ اساتذہ کو نوے فی صد سے کم تعداد نہیں لکھنے دیتے۔ انکی طرف سے یہی حکم نامہ ہوتا ہے یا تو طالب علموں کی تعداد کسی بھی طریقے سے پوری کی جائے یا پھر روزانہ کی بنیاد پر نوے فیصد کم از کم تعداد لکھی جائے چاہے طالب علم کتنے ہی کم کیوں نہ ہوں۔ ایسی دونوں صورتوں میں ہم اساتذہ کے لیے کیا حکم شرع ہوگا؟ کیا تنخواہ حلال ہوگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں  درس گاہ میں موجود طلباء کی کم تعداد کو زیادہ بتلانا، یا نوے فیصد سے کم تعداد کو  نوے فیصد کر کے پیش کرنا جھوٹ دھوکہ اور گناہ ہے، اور بغیر شدید مجبوری کے جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے۔ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے آپ نے فرمایا: کہ ’’ یقیناً جھوٹ برائی کی رہنمائی کرتا ہے اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، تا آں کہ اللہ کے یہاں ’’کذّاب‘‘ (بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا) لکھا جاتا ہے‘‘۔ ایک اور حدیث میں جھوٹ منافق کی نشانی قرار دیا گیا ہے، لہذا حتی الا مکان جتنا ممکن ہو سکے  جھوٹ بولنے، جھوٹ لکھنے اور دھوکہ دہی سے بچنے کا اہتمام کریں۔  تاہم  اگر اسکول کے اساتذہ کے اختیار میں نہیں ہے وہ نہ چاہتے ہوئے مجبوراً ایسا کرنے کے پابند ہیں تو اس کا وبال  مجبور کرنے والوں پر ہو گا اور اساتذہ بری ہوں گے۔ اور اگر اساتذہ کے اختیار میں ہے، یعنی: اگر وہ صحیح تعداد ظاہر کریں اور جنتے طلباء حاضر ہیں اتنے ہی فیصد حاضر لکھیں تو پھر اساتذہ کے لیے بھی ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔

نیز اساتذہ کو جو تنخواہ ملتی ہے وہ مکمل حاضری دینے    کی وجہ سے ملتی ہے، اگر مکمل حاضری اور  مفوضہ امور  درست انداز میں سرانجام دیتے ہیں تو ان کے لیے تنخواہ کا لینا جائز اور حلال ہے۔

حدیث شریف میں ہے: 

"حدثنا قبيصة بن عقبة، قال: حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر ."

(صحیح البخاری،  باب علامة المنافق، ج: 1، صفحہ: 16، رقم الحدیث: 34، ط: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)

وفیہ ایضاً: 

"حدثنا جرير، عن منصور، عن أبي وائل، عن عبد الله رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وإن الرجل ليصدق حتى يكون صديقا. وإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وإن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذابا."

(صحیح البخاری، باب قول الله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين} [التوبة: 119] وما ينهى عن الكذب، ج: 8، صفحہ: 25، رقم الحدیث: 6094، ط: دار طوق النجاة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100348

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں