بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا مومن کی شان نہیں ہے


سوال

بات یہ ہے کہ میں نے ایف ایس سی کی ہوئی ہے ڈگری کالج سے میں نے ایف ایس سی میں کبھی کلاس نہیں لی ہے اور اب میں  اس ٹیم میں پڑھ  رہا ہوں اور ایک اسکالرشپ جمع کرنی ہے تواس سکالرشپ کی شرط یہ رکھی  ہوئی ہے کہ 75%  کا حاضری ہونا لازمی ہے اور میرا تو ایک فیصد بھی نہیں ہے  پھر میں نے کالج کے کلرک سے پوچھا کہ اب میں کیا کروں  حاضری تو میری نہیں  ہے تو اس نے  کہا کہ میری طرف سے اجازت ہے آپ جتنا لگا سکتے ہو  لگاؤ ۔اور میرا داخلہ ریگولر ہے ۔ کیا اب میں لے سکتا ہوں ؟

جواب

واضح رہے کہ  شریعت مطہرہ میں کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی اور جھوٹ بولنے پر شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو مسلمان کی شان کے خلاف بتایا ہے، اور فرمایا کہ"مومن ہر خصلت  پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے" ایک اور روایت میں جھوٹ بولنے کو منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

صورت مسئولہ میں ریگولر  طالب علم کا کلاس میں ایک فیصد بھی حاضر نہ رہنے کے باوجود اپنے آپ کو مکمل حاضر یا 75فیصد حاضر بتلانا دھوکا دہی اور جھوٹ پر مبنی ہے اور اس بنیاد پر اپنے آپ کو اسکالرشپ کا مستحق  قرار  دینا جائز نہیں ہے۔ اور اگر مذکورہ طالب علم کی وجہ سے دیگر  اہتمام کے ساتھ مکمل حاضری دینے والے طلباء میں سے کوئی اسکالرشب کا حصہ بننے سے رہ جائے تو اس میں ان   کی حق تلفی بھی ہے۔

نیز  کلرک کے لیے بھی غیر حاضر طلباء کو حاضر لکھنا درست نہیں ہے اس میں غیر حاضر طلباء کی  حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور طلباء غیر حاضری پر جری ہوتے ہیں، جب کہ کلرک کو ریگولر ہونے کے باوجود  غیر حاضر  رہنے والے طلباء کی سرزنش  کرنی چاہیے۔

چنانچہ حدیث شریف میں ہے: 

"حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب." 

(مسند الإمام أحمد بن حنبل، ج: 36، صفحہ: 504، رقم الحدیث: 22170، ط:  مؤسسة الرسالة)

وفیہ ایضاً:

"حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر. تابعه شعبة، عن الأعمش."

(صحیح البخاری ، باب علامة المنافق، ج: 1، صفحہ: 16، رقم الحدیث: 34، ط: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308102260

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں