بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

جھوٹ بول کر کرایہ کی مد میں اضافی پیسے لینا


سوال

میرے ادارے میں ہمیں گھر کا کرایہ 2250 روپے ہماری تنخواہ میں ملتا ہے، لیکن اگر کوئی اپنے گھر کے یا اگر کرائے پر رہتا ہو تو وہ اُس گھر کے کاغذات جمع کروائے تو اسے  6700 روپے ملےگا، مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی کرائے پر نہیں رہتا اور کسی اور کے گھر کے کاغذات جمع کروا کر جھوٹ بولے کہ میں کرائے پر رہتا ہوں، کرایہ 10000 روپے دیتا ہوں، جب کہ وہ کرائے کے گھر میں نہیں رہتا ہو۔ زیادہ پیسوں کے لیے جھوٹ بول کر کسی اور کے گھر کے کاغذات جمع کرے، تو کیا یہ جو پیسے زیادہ لے رہا ہے، وہ اُس کے لیے حلال ہے جب کہ وہ جھوٹ بول کر لے رہا ہو؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جھوٹ بول کر کرایہ کی مد میں اضافی رقم وصول کرنا اور اسے استعمال کرنا ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200936

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں