بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

جہیز کے زیورات اور بری کا حکم


سوال

میں اپنی شادی کے موقع پر اپنے جہیز  میں بارہ تو لہ سونے کے زیور تقریبًا  لے کر گئی تھی ، جو 2003 میں وقوع پذیر ہوئی تھی ، میرے سسرال والوں نے  میرے شوہر کے ساتھ شامل ہوکر میرے  جہیز اور بری کا زیور جو کہ تقریبًا 8 تولہ  سونا تھا، مجھ سے چھپا کر بیچ دیاتھا 2007 میں شوہر کے کہنے کے مطابق میرے سسر یعنی اپنے والد کے پریشانیوں سے  تنگ آکر اپنے والد کے  ہی ہاتھوں سنار کے پاس بکوادیاتھا، جب مجھے چند مہینوں کے بعد پتہ چلا یعنی اس خفیہ معاملے کا علم ہوا تو میرے شور  اور  اور مزاحمت کرنے پر شوہر اور سسر نے بڑی دھمکیاں دے کر چپ کروادیاتھا، جبکہ میرے سسرال والوں نے شادی کے چند دونوں بعد ہی سارازیور جہیزاور بری کا اپنے قبضے میں کرلیاتھا، مجھے جھوٹی تسلی دیتے رہے کہ ہمارے پاس محفوظ رہے گا، اب صرف جہیز کے سونے کے زیور کی رقم کی واپسی  کا وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہاں میں تمہارے جہیز والے سونے کا میں ذمہ دار ہوں ، البتہ بری کا زیور جوکہ ہماری طرف کا تھا،میرے گھر والوں نے بنایاتھا ،تم اس کو بھو ل جاؤ بالکل ، وہ تمھارا تھا ہی نہیں ،میرے سسر کا بھی یہی فیصلہ ہے ،میرے شوہر نے اس سال 2021 میں  پچیس لاکھ کی مالیت کا  گھر خریداہے ، اب میرے شوہر کا کہنا ہے ، تمھارے جہیز والے سونے کے زیور کا قرضہ اس گھر کی رقم میں شامل ہے ، لہذامیں نے اپنا قرضہ اتاردیاہے ، تمھارے جہیز کے سونے کے زیور کے بدلے آدھا گھر  تمہارے نام  لکھ دیاہے ، اس کے علاوہ مجھے میرے والد کے گھر سے ورثے کی صورت میں ساڑھے سات لاکھ  روپے ملے تھے ، وہ رقم بھی مجھے  اپنے شوہر کے حولے کرنی پڑی ، اس رقم کو بھی میرے شوہر نے مذکورہ  گھر کی خریداری میں شامل کردیاہے ، گھر کے کاغذات ہم دونوں میاں بیوی کے برابر کے نا م ہیں ، آدھاگھر بیوی کے نام ہے آدھا گھر شوہر کے نام ہیں ، اب سوال یہ ہے :

1 جو قرضہ سونے کی مد میں میرے شوہر کے ذمہ واجب الاداتھا ، کیاوہ اس طریقے سے ادا ہوگیاہے یانہیں ؟

2۔ میراحق مہر سوالاکھ روپے ہے ، وہ بھی ابھی تک میرے شوہر کے ذمہ ادا کرنا واجب ہے ، جس کے بارے میں  شوہر کا کہنا ہے کہ وہ رقم یعنی حق مہر کی رقم بھی گھر میں ہی شامل سمجھو میں ادا نہیں کرسکتا ، حالات کمزور ہوگئے ہیں اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟  

3۔ شریعت کے اعتبار سے ہمیں کس  طرح اس گھر  کی تقسیم کرنی چاہی؟

4۔اس گھر کا مالک کون ہوگا؟ہم دونوں میاں بیوی نے ہوش وحواس میں یہ فیصلہ طے کیاہے کہ ہم دونوں میں سے کسی ایک فریق کے انتقال کے بعد دوسراموجود ( زندہ ) پورے گھر کا مع سازوسامان  مالک ہو گا، اور  اسے وقت کے  حالات کے مطابق  فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا، کیاہمارایہ فیصلہ  کرنا صحیح ہے یانہیں ؟

ہماری اولاد نہیں ہے ، ہم دونوں کے مرنے کے بعد کس طر ح اس گھر کی تقسیم ہونی چاہیے، تاکہ میں اپنی وصیت لکھ سکوں ، اور میں مرنے کے بعد کچھ رقم بھی  صدقہ جاریہ کرنا چاہتی ہوں ، میرے شوہر کے صرف دو،وارث ہیں ، ایک بھتیجا اور ایک بھتیجی ہے ، بیوی کے چار بھتیجے اور بھتیجیاں ہیں ۔

جواب

 1۔2۔صورت مسئولہ میں،  جو زیورات سائلہ جہیز میں  لائی تھی وہ زیورات تو اسی کے تھے شوہر اور سسر نے  سائلہ کے علم میں لائے بغیر بارہ تولہ سونا   بیچ دیا،ایسا کرنا ان کے لیے جائز نہیں تھا شوہر اور سسر پر لازم تھا کہ وہ اتنا ہی سونا ادا کرتے ،جتنا   سوناانہوں نے بیچاہے یا  مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے   بارہ تولہ سونے کی  جو  قیمت بنتی ہے ، وہ اداکرتے،لیکن جب سائلہ کے شوہر نے پچیس لاکھ روپے میں گھر خریدا اور شوہر نے کہاکہ  تمہارے سونے کی رقم اور ساڑھے سات لاکھ  روپے جو سائلہ نے نقد کی شکل میں شوہر کو دیے تھے ، اس گھر میں شامل ہے اورسائلہ  اور اس کے شوہر   نےیہ فیصلہ  کیاکہ ہم اس گھر میں   آدھے  ، آدھے حصے کے   بقدرکے مالک ہوں گےاور سائلہ نے اس کو قبول کرلیا تو اس صورت میں شوہر کی طرف جو حق تھا وہ ادا ہوگیا ، اب سائلہ اپنے زیورات اور رقم کے عوض اس آدھے گھر کی مالک ہے ، البتہ مہر کی رقم کے بارے میں مکان کی خریداری کے وقت کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی ، بلکہ بعد میں جب  سائلہ نے مطالبہ کیا تو شوہر نے کہاکہ اسے بھی  گھر میں شامل سمجھو، اس سے یہ مہر ادا نہیں ہوا یہ شوہر کے ذمے بدستور لازم ہے ، سائلہ اس کا مطالبہ کرسکتی ہے  ۔

 باقی جو زیورات سائلہ کو سسرال کی طرف سے ملے تھے  ان میں تفصیل یہ ہے کہ اگر لڑکے والوں نے بطور عاریت یعنی صرف استعمال کرنےکے لیے دینے کی صراحت کی تھی تو یہ زیورات لڑکے والوں کی ملکیت ہوں گے اور اگر بطور ہبہ ، گفٹ اور مالک بناکردیے تھے تو پھر لڑکی کی ملکیت ہوں گے اور اگر ان دونوں میں سے کسی چیزکی صراحت نہ ہو تو پھر لڑکے والوں کے عرف کا اعتبار ہوگا ، اگر لڑکے والوں  کا عرف بطور عاریت یعنی استعمال کرنے کےلیے دینےکاہے تو اس صورت میں لڑکے والے اس کے مالک ہوں گے اور اگر لڑکے والوں کا کوئی عر ف نہ ہو  یابطور ملک دینے کارواج ہو  تو ان دونوں صورتوں میں وہ لڑکی کی ملکیت ہوں گے، جوکہ اس کو اداکرنا لازم ہوگا

3۔یہ گھر سائلہ اورا س کے شوہر کے درمیان معاہد کے مطابق آدھاآدھاہو گا ۔

4۔سائلہ اور اس کے شوہر نے آپس میں جو  یہ معاہدہ کیا ہے کہ  کسی ایک فریق  کے مرنے کے بعد دوسرازندہ فریق، گھر مع ساز وسامان کا  مالک ہوگااور اس میں فیصلہ کرنے میں  خود مختار ہوگا،  یہ معاہد ہ کرناشرعًادرست نہیں،  بلکہ کسی ایک کے انتقال کی صورت میں اس کاحصہ اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم ہو گا۔

سائلہ اگر اپنے مال کے بارے میں اپنے  مرنے کے بعد  کی وصیت کرنا چاہتی ہے تو وہ   صرف ایک تہائی  مال کی وصیت کر سکتی ہے ، اس سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں ہے ۔

5۔سائلہ اور اس کے شوہر کے قریبی رشتہ داروں میں صرف بھتیجے اور بھتیجیاں ہیں تو کسی ایک کے انتقال کی صورت میں زندہ رہ جانے والے فریق کے ساتھ صرف اس کے بھتیجے  میراث کے حق دا رہوں گے باقی چوں کہ کون کب انتقال کرےگا، اس کی تعیین نہیں ہوسکتی اس لیے میراث کی تقسیم کا حتمی جوا ب نہیں دیاجاسکتا۔

مسبوط للسرخی میں ہے:

"قال: (رجل حضره الموت فقال: " داري هذه حبيس ": لم تكن حبيسا، وكان ذلك ميراثا)؛ لأن قوله " حبيس " أي: محبوس، فعيل بمعنى مفعول، كالقتيل بمعنى المقتول، ومعناه: محبوس عن سهام الورثة، وسهام الورثة في ماله بعد موته حكم ثابت بالنص، فلا يتمكن من إبطاله بقوله. وهو معنى قول شريح: لا حبيس عن فرائض الله - تعالى - وجاء محمد - صلى الله عليه وسلم - ببيع الحبيس.

وكذلك إن قال: داري هذه حبيس على عقبي بعد موتي: فهو باطل؛ لأن معناه محبوس على ملكهم لا يتصرفون فيه بالإزالة، كما يفعله المالك، وهو مخالف لحكم الشرع؛ فكان باطلا.۔۔۔۔۔ وهو أن يقول: أراقب موتك، فراقب موتي، فإن مت فهي لك، وإن مت فهي لي؛ فيكون هذا تعليق التمليك بالخطر، وهو موت المملك قبله، وذلك باطل، ثم لما احتمل المعنيان جميعا، والملك لذي اليد فيها يقينا، فلا يزيله بالشك۔"

(کتاب الہبۃ ، باب الرقبی 12/89ط:دار المعرفة)

فتاوی شامی میں ہے:

" في الذخیرة: اشتری من المقرض الکر الذی له عليه بمائة دینار جاز؛ لأنه دین عليه۔

(فصل فی القرض، مطلب فی شراء المستقرض من المقرض  ۵/۱۶۴ط:سعید)

ہدایہ میں ہے:

"إذا حصل الإیجاب والقبول لزم البیع۔"

(  کتاب البیوع، د ۳/ ۲۰،ط:اشرفیہ دیوبند)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"ثم تصح الوصية للأجنبي بالثلث من غير إجازة الوارث ولا تجوز بما زاد على الثلث۔"

( کتاب الوصایا،8/460ط:دار الكتاب الإسلامي)

رالمحتار میں ہے :

"قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر۔"

(کتاب النکاح ،باب المہر 3/153 ط: سعید)

ہندیہ میں ہے :

"وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك۔"

(کتاب النکاح ، الباب السابع ، الفصل السادس عشر فی جہازالبنت 1/327:دارالفکر)

صحیح البخاری میں ہے:

"عن عامر بن سعد بن مالك، عن أبيه، قال: عادني النبي صلى الله عليه وسلم عام حجة الوداع من مرض أشفيت منه على الموت، فقلت: يا رسول الله، بلغ بي من الوجع ما ترى، وأنا ذو مال، ولا يرثني إلا ابنة لي واحدة، أفأتصدق [ص:69] بثلثي مالي؟ قال: «لا»، قال: فأتصدق بشطره؟ قال: «الثلث يا سعد، والثلث كثير، إنك أن تذر ذريتك أغنياء، خير من أن تذرهم عالة يتكففون الناس ولست بنافق نفقة تبتغي بها وجه الله، إلا آجرك الله بها حتى اللقمة تجعلها في في امرأتك» قلت: يا رسول الله، أخلف بعد أصحابي؟ قال: «إنك لن تخلف، فتعمل عملا تبتغي بها وجه الله إلا ازددت به درجة ورفعة، ولعلك تخلف حتى ينتفع بك أقوام، ويضر بك آخرون، اللهم أمض لأصحابي هجرتهم، ولا تردهم على أعقابهم، لكن البائس سعد ابن خولة». يرثي له رسول الله صلى الله عليه وسلم أن توفي بمكة۔"

(باب قول النبي صلى الله عليه وسلم اللهم أمض لأصحابي هجرتهم 5/68ط:دار طوق النجاة)

 ترجمہ :" عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجۃ الوداع کے سال ہماری اس بیماری میں عیادت کرتے تھے جو اس سال مجھے بہت زیادہ ہوگئی تھی، میں نے عرض کیا مجھے بیماری ہوگئی اور میں مالدار ہوں اور میرے وارث سوائے میری بیٹی کے اور کوئی نہیں۔ کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ نہ کردوں ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ نصف، آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تہائی اور تہائی بھی بڑی ہے یا فرمایا کہ زیادہ ہے۔ تو اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑے اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑے کہ لوگوں سے سوال کرتے پھریں اور تم خرچ نہیں کرتے ہو اللہ کی رضامندی کی خاطر مگر اس پر تمہیں اجر دیا جائے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا میں اپنے ساتھیوں کے بعد مکہ میں پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا تم کبھی نہیں چھوڑے جاؤ گے مگر اس سے تمہارے درجہ اور بلندی میں زیادتی ہوگی پھر ممکن ہے کہ اگر تم پیچھے چھوڑ دیئے گئے تو تم سے ایک قوم فائدہ اٹھائے گی اور دوسری قوم نقصان اٹھائے گی اے اللہ میرے اصحاب کی ہجرت کو پختہ اور کامل کردے اور ان کو پیچھے نہ لوٹا لیکن تنگ حال سعد بن خولہ کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) افسوس کرتے تھے وہ مکہ میں وفات پاگئے ۔"

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144305100842

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں