بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز چھوڑنے والے کا حکم ۔


سوال

کیا نماز چھوڑنا صغیرہ گناہ ہے ، یاکبیرہ؟

جواب

واضح رہے کہ نماز ہر مسلمان بالغ عاقل مرد اور عورت پر فرض ہے، اور کسی شرعی عذر کے بغیر نماز چھوڑنا جائز نہیں ہے اور کبیرہ گناہ ہے، احادیث مبارکہ میں بے نمازی کے لیے بہت سخت وعیدیں آئی ہیں۔ لیکن نماز چھوڑنے کی اس عملی کوتاہی سے وہ شخص کافر نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا نکاح ٹوٹے گا، البتہ وہ سخت گناہ گار ہوگا اور اس پر سچی توبہ کرنا لازم ہوگا۔

صحيح مسلم میں ہے:

"عن أبي سفيان، قال: سمعت جابرا رضي الله عنه يقول: سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول: «إن بين الرجل و بين الشرك و الكفر ترك الصلاة."

(‌‌كتاب الإيمان،‌‌باب بيان إطلاق اسم الكفر على من ترك الصلاة،١٦/١،ط: دار الطباعة العامرة)

"ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ : نماز کا چھوڑنا بندہ مؤمن اور شرک و کفر کے درمیان (کی دیوار کو ڈھا دیتا) ہے۔ (مظاہر حق )"

مسند أحمد میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه: ذكر الصلاة يوما فقال: من حافظ عليها كانت له نورا و برهانا و نجاة يوم القيامة، و من لم يحافظ عليها لم يكن له نور و لا برهان و لا نجاة و كان يوم القيامة مع قارون و فرعون و هامان و أبي بن خلف."

(‌‌مسند عبد الله بن عمرو بن العاص - رضي الله عنهما،١٤١/١١،ط: مؤسسة الرسالة)

"ترجمہ:حضرت عبد اللہ ابن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کا ذکر کیا (یعنی نماز کی فضیلت و اہمیت کو بیان کرنے کا ارادہ فرمایا) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص نماز پر محافظت کرتا ہے (یعنی ہمیشہ پابندی سے پڑھتا ہے) تو اس کے لیے یہ نماز ایمان کے نور (کی زیادتی کا سبب) اور ایمان کے کمال کی واضح دلیل ہوگی، نیز قیامت کے روز مغفرت کا ذریعہ بنے گی، اور جو شخص نماز پر محافظت نہیں کرتا تو اس کے لیے نہ (ایمان کے) نور (کی زیادتی کا سبب بنے گی،) نہ (کمال ایمان کی) دلیل اور نہ (قیامت کے روز) مغفرت کا ذریعہ بنے گی، بلکہ ایسا شخص قیامت کے روز قارون، فرعون، ہامان اور ابی ابن خلف کے ساتھ (عذاب میں مبتلا) ہوگا۔(مظاہر حق)۔"

مرقاة المفاتيح میں ہے:

"و عن جابر رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: «بين العبد و بين الكفر ترك الصلاة»، رواه مسلم : و في شرح السنة: اختلف في تكفير تارك الصلاة الفرض عمدا. قال عمر رضي الله عنه: لا حظ في الإسلام لمن ترك الصلاة. و قال ابن مسعود رضي الله عنه: تركها كفر. و قال عبد الله بن شقيق: كان أصحاب محمد عليه الصلاة و السلام لا يرون شيئا من الأعمال تركه كفر غير الصلاة. و قال بعض العلماء: الحديث محمول على تركها جحودا أو على الزجر و الوعيد، و قال حماد بن زيد و مكحول و مالك و الشافعي: تارك الصلاة كالمرتد و لا يخرج من الدين. و قال صاحب الرأي: لا يقتل، بل يحبس حتى يصلي، و به قال الزهري. اهـ"

(كتاب الصلاة،الفصل الأول،٥١٠/٢ ، ط: دار الفكر، بيروت)

 

فتاوی شامی میں  ہے:

"(هي فرض عين على كل مكلف)...(و يكفر جاحدها) لثبوتها بدليل قطعي (و تاركها عمدا مجانة) أي تكاسلا فاسق (يحبس حتى يصلي).قال في الرد: ثم المكلف هو المسلم البالغ العاقل و لو أنثى أو عبدا."

(‌‌كتاب الصلاة،٣٥١/١،ط: دار الفكر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"الصلاة فريضة محكمة لا يسع تركها و يكفر جاحدها، كذا في الخلاصة، و لا يقتل تارك الصلاة عامدا غير منكر وجوبها بل يحبس حتى يحدث توبة."

‌‌[كتاب الصلاة،٥٠/١،ط: المطبعة الكبرى)

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144501101006

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں