بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

جھینگا کھانے کا حکم


سوال

 جھینگا کھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جھینگےکی حلت اورحرمت کی بنیاد اس بات پرہےکہ یہ مچھلی ہےیا نہیں،  جولوگ اس کو مچھلی قراردیتے ہیں وہ اس کی حلت کے قائل ہیں اورجولوگ اس کو مچھلی قرارنہیں دیتے وہ مکروہ کہتے ہیں۔  علمِ لغت، علمِ حیوانات  کے  ماہرین اور  ساحلی علاقے کے لوگ  اس کو مچھلی قراردیتے ہیں اوراکثرعلماء کی رائے بھی یہی ہے، لہذا جو لوگ کھانا چاہتے ہیں ان کو منع نہ کریں اور  جو لوگ کھانا نہیں چاہتے ان کو کھانے کے  لیے مجبور نہ کریں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144301200236

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں