بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

جسمِ کثیف و لطیف کیا ہے اور کیا قرآن مجید میں اس کا ذکر موجود ہے ؟


سوال

یہ جسم کثیف اور جسم لطیف کیا ہے؟کیا اس بارے میں قرآن و حدیث میں  کسی طرح کا ذکر ملتا ہے؟

جواب

جسم کثیف سے مراد وہ جسم ہے جو ٹھوس ہو اور سخت مادے سے بنا ہوا ہو اور جسم لطیف سے مراد وہ جسم ہے جو نرم و نازک ہو اور بہت ہی نرم و نازک مادے سے بنا ہوا ہو، جسم لطیف کی مثال جیسے روح،ہوا،آگ ،فرشتے اور جنات وغیرہ ہیں اور ان کے علاوہ جتنی اشیاء ہیں وہ اجسامِ کثیفہ ہیں اور قرآن کریم میں جسم لطیف و کثیف کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جیسےروح ،ہوااور  آگ جو جسمِ لطیف کی مثالیں ہیں  اور پتھر ،لوہاوغیرہ جو جسمِ کثیف کی مثالیں ہیں کا ذکر مختلف آیات میں موجود ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ‌قُلِ ‌ٱلرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَآ أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا."(الإسراء :٨٥)

"وَأَنزَلْنَا ‌الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْس شَدِيد وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ."(الحديد:25)

تفسیرِ کبیر میں ہے:

"واعلم أن أجسام هذا العالم إما كثيفة أو لطيفة، أما الكثيف فأكثف الأجسام الحجارة والحديد وقد جعلهما الله تعالى معجزة لداود عليه السلام، فأنطق الحجر ولين الحديد وكل واحد منهما كما يدل على التوحيد والنبوة يدل على صحة الحشر، لأنه لما قدر على إحياء الحجارة فأي بعد في إحياء العظام الرميمة، وإذا قدر على أن يجعل في إصبع داود عليه السلام قوة النار مع كون الإصبع في نهاية اللطافة، فأي بعد في أن يجعل التراب اليابس جسما حيوانيا، وألطف الأشياء في هذا العالم الهواء والنار، وقد جعلهما الله معجزة لسليمان عليه السلام، أما الهواء فقوله تعالى: فسخرنا له الريح وأما النار فلأن الشياطين مخلوقون منها وقد سخرهم الله تعالى فكان يأمرهم بالغوص في المياه والنار تنطفئ بالماء وهم ما كان يضرهم ذلك، وذلك يدل على قدرته على إظهار الضد من الضد."

(سورة الأنبياء ،الآية :،القصة الخامسة قصة داؤد وسليمان عليهما السلام،170/22،ط:دار إحياء التراث العربي) 

التعریفات للجرجانی میں ہے:

"المَلَك: ‌جسم لطيف نوراني يتشكل بأشكال مختلفة."

(التعريفات:باب الميم،229،ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144406101524

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں