بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

جسم کو داغنے کے بارے میں روایات


سوال

آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جسم کو داغنے کے بارے میں کیا حکم دیا ہے؟

جواب

جسم کو داغنے کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض روایات میں ممانعت منقول ہے، جیساکہ مروی ہے:

"وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الشفاء في ثلاث: في شرطة محجم أو شربة عسل أو كية بنار وأنا أنهى أمتي عن الكي ". رواه البخاري".

(مشکوۃ المصابیح، کتاب الطب والرقی،الفصل الاول،  رقم الحدیث:4516، ج:2، ص:1278، ط:دارالکتاب الاسلامی)

ترجمہ:"حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شفا تین چیزوں میں ہے: پچھنے والی سینگی لگانے میں، یا شہد پینے میں اور آگ سے داغنے میں، لیکن میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔"

اور بعض احادیث مبارکہ میں اس کی اجازت اور اس کو بطورعلاج اختیار کرنے کا ذکر منقول ہے، جیسا کہ درجِ ذیل روایت میں مروی ہے:

"وعن جابر قال: رمي أبي يوم الأحزاب على أكحله فكواه رسول الله صلى الله عليه وسلم". رواه مسلم

(مشکوۃ المصابیح، کتاب الطب والرقی،الفصل الاول،  رقم الحدیث:4517، ج:2، ص:1278، ط:دارالکتاب الاسلامی)

ترجمہ:"حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے دن حضرت ابی کی رگ ہفت اندام پر تیر آ کر لگا، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو داغ دیا(یعنی حکم دیا)۔"

مذکورہ دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ اگر دیگراسباب کے ذریعہ مرض کا علاج ممکن ہوتو جسم داغنےسے احتراز کیاجائے، اور اگر مرض کا علاج کسی اور ذریعے سے ممکن نہ ہو اور یہ بھی یقین ہو کہ صرف داغنےسے ہی فائدہ ہوسکتاہے اس صورت میں داغنےکی اجازت ہے ۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"أن ذلك عند عدم القدرة على المداواة بدواء آخر والنهي قبل بلوغ ضرورة داعية إليه من موضع يعظم خطره".

(کتاب الطب والرقیٰ، ج:13، ص:259، ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102420

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں