بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

جس شخص کے پاس عیدالاضحیٰ کی قربانی کی استطاعت نہ ہو تو وہ کیا کرے؟


سوال

اگر کوئی شخص عید الاضحی کی قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس کے لیے  کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  جو شخص ایّامِ قربانی میں صاحبِ نصاب نہ ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں ہے، تاہم اگر وہ کسی سے قرضہ لے کر قربانی کرتا ہے جب کہ قرضہ بھی آسانی سے مل جائے اور بعد میں ادائیگی کی وسعت بھی ہو تو نفلی قربانی ہوجائےگی اور قربانی کا ثواب بھی مل جائےگا، البتہ اگر اس میں قرضہ کی ادائیگی کی وسعت نہیں ہے تو ایسی صورت میں قرضہ لے کر اپنے آپ کو مقروض بنانا ٹھیک نہیں ہے؛ کیوں کہ شریعت اس چیز کامکلف نہیں بناتی جو انسان کے دائرۂ اختیارمیں نہ ہو۔ 

بذل المجهود في حل سنن أبي داود میں ہے:

"حدثنا هارون بن عبد الله قال: نا عبد الله بن يزيد قال: حدثني سعيد بن أبى أيوب قال: حدثنى عياش بن عباس القتباني, عن عيسى بن هلال الصدفى, عن عبد الله بن عمرو بن العاص  أن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال: «أمرت بيوم الأضحى: عيدا  جعله الله عز وجل لهذه الأمة»قال الرجل: أرأيت إن لم أجد إلا منيحة أنثى  أفأضحى بها؟ قال: «لا, ولكن تأخذ من شعرك وأظفارك, وتقص شاربك, وتحلق عانتك, فتلك تمام أضحيتك عند الله»، (أفاضحي بها؟ قال) رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: (لا)، ولعل المراد من المنيحة ها هنا ما يمنح بها، وإنما منعه؛ لأنه لم يكن عنده شيء سواها ينتفع بها (ولكن تأخذ من شعرك وأظفارك، وتقص شاربك، وتحلق عانتك، فتلك تمام أضحيتك عند الله) أي: أضحيتك تامة بنيتك الخالصة، ولك بذلك مثل ثواب الأضحية، وصيغة الخبر بمعنى الأمر.

ثم ظاهر الحديث وجوب الأضحية إلا على العاجز، ولذا قال جمع من السلف: تجب على المعسر، ويؤيده حديث: "يا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أستدين وأضحي؟ قال: نعم، فإنه دين مقضي."

(أول كتاب الضحايا، ج:9، ص:532، ط:مرکز الشیخ ابی الحسن الندوی)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الزکوۃ، الباب الثامن في صدقة الفطر ج:1، ص:191، ط: مکتبہ رشیدیہ)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144412100053

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں