بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 رجب 1444ھ 27 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

جس مسجد میں چوری کی بجلی استعمال ہوتی ہو وہاں امامت کرانے کا حکم


سوال

 میں ایک مسجد کا امام ہوں اور ہماری مسجد میں چوری کی بجلی استعمال ہوتی ہے ،میں جب مقتدیوں سے کہتا ہوں کہ مسجد میں چوری کی بجلی استعمال کرنا جائز نہیں ہے، تو وہ دلیل کے طورپر کہتے ہیں کہ سرکار کی کوئی چوری نہیں ہوتی؛ کیوں کہ سرکار بھی ہمارے حقوق پورے نہیں دیتی، وہ بھی ہمارے حقوق کو کھاجاتی ہے، اس لیے سرکار کی چوری کوئی نہیں، تو  میرے لیےیہاں امامت کے  بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی اس بات" کہ مسجد میں چوری کی بجلی استعمال کرنا جائز نہیں "کے جواب میں مقتدیوں کا یہ کہنا کہ "سرکار کی کوئی چوری نہیں ہوتی ؛کیوں کہ وہ بھی ہمارے حقوق کھا جاتی ہے"شرعاً درست نہیں ؛کیوں کہ بجلی کی چوری بھی چوری  ہے بلکہ یہ اس چوری سے بھی زیادہ سنگین ہے جو کسی ایک شخص سے کی جائے ؛کیوں کہ ایک فرد کو اس کا حق لوٹانا یا معاف کرالینا آسان ہے ،جب کہ  بجلی قوم کا اجتماعی حق ہے اور سب کو ان کا حق لوٹانا یا ان سے حق معاف کرانا بہت مشکل ہے،لہذا مسجد انتظامیہ پر لازم ہے کہ اس سے باز آکر قانونی طریقے سے بجلی حاصل کرکے اسے استعمال کریں اور پہلے جتنی بجلی استعمال کی ہے اندازہ  لگا کر اس کی بل ادا کریں، سائل کو  چاہیے کہ حق بات کہتے رہیں اور ان کو نصیحت کرتے رہیں، پھر بھی نہ مانیں تو سائل پر اس کا وبال نہیں آئے گا۔

"آپ کے مسائل اور ان کا حل" میں ہے:

’’چوری کی بجلی سے پکا ہوا کھانا کھانا اور گرم پانی سے وضو کرنا:

س… ہم دُنیا والے دُنیا میں کئی قسموں کی چوریاں دیکھتے ہیں۔ مولانا صاحب! لوگ سمجھتے ہیں کہ بجلی کی چوری، چوری نہیں ہوتی۔ کیا چوری والی بجلی کی روشنی میں کوئی عبادت قبول ہوسکتی ہے؟ چوری کی بجلی سے چلنے والا ہیٹر پھر اس ہیٹر سے کھانا پکانا چاہے وہ کھانا حلال دولت کا ہو، کیا وہ کھانا جائز ہے؟ ہمارے شہر کے نزدیک ایک مسجد شریف میں گیزر (پانی گرم کرنے کا آلہ) بالکل بغیر میٹر کے ڈائریکٹ لگا ہوا ہے، مسجد والے نہ اس کا الگ سے کوئی بل ہی دیتے ہیں، لوگ اس سے وضو کرکے نماز پڑھتے ہیں، کیا اس گرم پانی سے وضو ہوجاتا ہے؟ جواب ضرور دینا، مہربانی ہوگی۔

ج… سرکاری ادارے پوری قوم کی ملکیت ہیں، اور ان کی چوری بھی اسی طرح جرم ہے جس طرح کہ کسی ایک فرد کی چوری حرام ہے، بلکہ سرکاری اداروں کی چوری کسی خاص فرد کی چوری سے بھی زیادہ سنگین ہے؛ کیوں کہ ایک فرد سے تو آدمی معاف بھی کراسکتا ہے، لیکن آٹھ کروڑ افراد میں سے کس کس آدمی سے معاف کراتا پھرے گا؟ جو لوگ بغیر میٹر کے بجلی کا استعمال کرتے ہیں وہ پوری قوم کے چور ہیں۔ مسجد کے جس گیزر کا آپ نے ذکر کیا ہے اگر محکمے نے مسجد کے لیے مفت بجلی دے رکھی ہے، تو ٹھیک، ورنہ مسجد کی انتظامیہ کمیٹی چور ہے اور اس کے گرم شدہ پانی سے وضو کرنا ناجائز ہے۔ یہی حکم ان تمام افراد اور اداروں کا ہے جو چوری کی بجلی استعمال کرتے ہیں۔"

(کھانے پینے کےبارے میں شرعی احکام،394/8،ط:مکتبۂ لدھیانوی )

فتاوی شامی میں ہے:

"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."

(كتاب الغصب،مطلب في ما يجوز من التصرف بمال الغير،200/6،ط:سعيد) 

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144403100826

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں