بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

جاز کیش بیک کا حکم


سوال

 مسئلہ یہ ہے کہ جاز کیش والے ہمیں میسج کرتے ہیں،  اور ہمیں ایک ٹاسک دیتے ہیں جیسے کہ وہ بولتے ہیں کہ اگر اپ نے اپنی اکاؤنٹ میں 10 تاریخ سے لے کر 20 تاریخ تک 15 ہزار روپے ریسیو کر لیں،  تو ہم آپ کو ایک ہزار روپے کا  ریوارڈ دیں گے،  اور یہ پیسے جب ائیں گے آپ کے اکاؤنٹ میں تو یہ پیسے آپ اپنی اکاؤنٹ سے اسے ٹائم واپس نکال سکتے ہیں،  اور اس پر صرف وہی ٹیکس لاگو ہوتا ہے جو گورنمنٹ کی طرف سے ہیں اس کے علاوہ کوئی اور پالیسی یا قانون نہیں ہے بس یہی ٹاسک پورا کرنا ہے کہ 15 ہزار روپے ریسیو کر لو تو ہم اپ کو ایک ہزار روپے دیں گے،  تو کیا اپ بتا سکتے ہیں کہ اس طرح ملنے والا ریوارڈ جائز ہے یا نہیں ؟باقی میں جس گینش والوں کا میسج بھی یہاں پر  پیسٹ کر دیتا ہوں تاکہ اپ کو بھی اندازہ ہو جائے شکریہ جزاکم اللہ خیرا

Muaziz Merchant! Aj se lekar 20 October tk apne JazzCash QR/TILL se 2 din ma Rs.500 ya zaaid ki 2 payments accept keren aur hasil kren Rs.500 cashback!

رومن کی اردو"معزز تاجر !آج سے لے کر 20 اکتوبر تک اپنے جاز کیش اکاؤنٹ سے دو دن میں 500 روپے یا زیادہ  دو ادائیگیاں وصول کریں اور حاصل کرے پانچ سو روپے کیش بیک"

یہ بزنس اکاؤنٹ ہے اس پہ ون پرسنٹ ٹیکس لگا ہوا ہوتا ہے،  یہ صرف شاپ والوں کے پاس ہوتا ہے بس مطلب شاپ والوں  کے پاس جو کیو ار ہوتا ہے جس کے اس کا وہی اکاؤنٹ کی بات کر رہا ہوں اور یہ کسٹمر کو سوالات دے رہا ہے کہ کسٹمر کو شاپ والے سے اکاؤنٹ نمبر لینا نہیں پڑے گا ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جاز اکاؤنٹ والوں کی طرف سے مشروط رقم پر کیش بیک دینا سود ہونے کے بنا پر جائز نہیں ہے،لہذا سائل کے لیے اس رقم کا لینا  اور استعمال کرنا  جائز نہیں ہے۔

مشكاۃ  المصابيح  میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آ كل ‌الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء."

(مشكاة المصابيح ،باب الربوا، ص: 243، ط: قدیمی)

ترجمہ:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سُود کھانے والے ، کھلانے والے ، (سُود کا حساب) لکھنے والے  اورسود پر گواہ بننے والے پر لعنت کی ہے۔"

اعلاء السنن  میں ہے:

 " قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادة  أو هدیة فأسلف علی ذلک، إن أخذ الزیادة علی ذلک ربا"

(کتاب الحوالة، باب کل قرض جرمنفعة، ج:14، ص:513، ط: إدارة القرآن)

البحر الرائق شرح کنز الدقائق   میں ہے:

"ولايجوز قرض جر نفعاً، بأن أقرضه دراهم مكسرةً بشرط رد صحيحة أو أقرضه طعاماً في مكان بشرط رده في مكان آخر ... و في الخلاصة: القرض بالشرط حرام."

( کتاب البیوع، فصل في بيان التصرف في المبيع و الثمن، ج:6، ص:133،  ط:دار الكتب الاسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(القرض)هوعقد مخصوص يرد على دفع مثلي ليرد مثله...(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا..."(وكان عليه ‌مثل ‌ما ‌قبض) فان قضاه اجود بلا شرط جاز و يجبر الدائن على قبول الاجود و قيل لا هذا هو الصحيح."

(‌‌‌‌باب المرابحة والتولية، فصل فی القرض ،مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:161، 165،166 ط:سعيد)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن قرض جر منفعة وسماه ربا"

(كتاب الصرف، باب القرض و الصرف فيه، ج 14، ص 35، ط :دار المعرفة بيروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

وأما الذي يرجع إلى نفس القرض فهو أن لا يكون فيه جر منفعة فإن كان لم يجز.. أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعا ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب۔

( كتاب القرض، فصل في الشروط، ج:10، ص:597، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504100700

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں