بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

جاوا آئی کا حکم


سوال

کیا جاوا آئی  سے پیسے کمانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

"Jawa Eye" کمپنی کی ویب سائٹ اور دیگر الیکٹرانک ذرائع  وغیرہ سے دست یاب معلومات کے مطابق    "Jawa Eye" کمپنی  ایک انٹرنیٹ پلیٹ فارم ہے جو مشترکہ طور پر ایک برطانوی سرمایہ کار کمپنی (LABON BROTHER LTD) اور سنگاپور کیپٹل (LEAD TECH GROUP INTERNATIONAL PTE. LTD. (n.k.a)) کے ذریعےکام کررہی ہے،  یہ کمپنی  فلموں اور  ٹیلی ویژن   منصوبوں  پر عمل درآمد کرنے لیے فنڈز اور دیگر وسائل  اکٹھا کرتی ہے،  فلم پروڈیوسرز کے ساتھ  ساتھ، فلموں اور ٹی وی سریز میں سرمایہ کرنے والوں کا بھی تعاون کرتی ہے، اور یہ فلم بنانے والے اداروں کی کنسلٹنٹ پارٹنرز  بھی ہے، اور مذکورہ کمپنی اپنے مقصدکو واضح طور پر یوں باور کراتی ہے: ".JAWA EYE WILL ENORMOUSLY BENEFIT ALL FILM LOVERS WORLDWIDE" (جاوا آئی دنیا بھر کے تمام فلمی شائقین کو بہت زیادہ فائدہ دے گی)۔۔https://jawaeyes.com/

کسی  بھی کمپنی میں سرمایہ کاری کے جائز ہونے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کا کاروبار  حقیقی طور پر موجود ہو،جائز اور حلال ہو،  اور   مذکورہ کمپنی کا بنیادی کام    فلموں اور  ٹیلی ویژن   منصوبوں  پر عمل درآمد کرنے لیے فنڈز اور دیگر وسائل اکٹھے کرنا ہے،جب کہ   فلم انڈسٹری  اور ٹیلی ویژن سریز    وغیرہ میں    کئی قسم کی ناجائز  چیزیں موجود ہوتی ہیں،مثلاً:

1.جاندار اور بالخصوص نامحرم عورتوں کی تصاویر 

2.موسیقی

3.مرد و زن کا اختلاط

4.فحاشی وعریانی 

5.معاشرے میں بے حیائی اور بے راہ روی پھیلانا

لہذا ان ناجائز امور میں اعانت کی وجہ سے اس کمپنی کے ساتھ کاروبار کرنا جائز نہیں ہے۔

اسی طرح کسی کمپنی میں سرمایہ کاری  کے جواز کے لیے اس سرمایہ کاری کے طریقہ کا شرعی اصولوں کے مطابق ہونا شرط ہے،اور اس کمپنی میں سرمایہ کاری کا طریقہ یہ ہےکہ اس میں اکاؤنٹ بنواکر میں ڈالر  جمع کرانے ہوتے ہیں اور اس  میں   مختلف درجات کے اعتبار سے فرق بھی ہے، اور پھر  ان ڈالرز سے   مختلف فلم، کارٹونز وغیرہ کے ٹکٹ خریدنے کے آپشن ملتےہیں، ہر فلم کا وقت بھی لکھا ہوا ہوتا ہے،  ایک ٹکٹ دس ڈالر تک ملتی ہے اور اسی وقت اس  پر ملنے والا متعین منافع بھی ظاہر کردیا جاتا ہے، اور فلم ختم ہونے کے بعد وہ فکس منافع اپنے  ڈالرز کے ساتھ واپس اکاؤنٹ میں آجاتا ہے، اسی طرح مزید ممبر بنانے پر واؤچرز ملتے ہیں، اس سے بھی فلم کے ٹکٹس خریدے جاسکتے ہیں۔اور یہ طریقہ  شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے کیونکہ:

1.نفع کی رقم پہلے سے مقرر ہوتی ہے جبکہ شرعا شرکت میں نفع کا تناسب طے ہوتاہے ،متعین رقم نہیں۔

2.اس میں سو فیصد نفع ملنےکی گارنٹی ہوتی ہے جبکہ شرعا شرکا نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہوتے ہیں۔

3.  مذکورہ  کمپنی میں دوسروں کو شامل کرانے پر اور پھر ان لوگوں کے دوسرے کو شامل کرانے پر   پہلے ممبر کو جو واؤچرز وغیرہ ملتے ہیں ، یہ بھی شرعاً جائز نہیں ہےکیونکہ بغیر کسی عمل کے وہ اجرت کا مستحق بن رہا ہے۔

لہذا خلاصہ یہ جاواآئی کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا اور اس سے نفع کماناجائز نہیں ہے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ."

(سورۃ المائدۃ ،آیت :2)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"وقوله تعالى: وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم."

(سورۃ المائدۃ،ج:3،ص:10،ط:دارالکتب العلمیۃ)

الفقہ الاسلامی واٗدلتہ میں ہے:

"لا يجوز الاستئجار على المعاصي كاستئجار الإنسان للعب واللهو المحرم وتعليم السحر والشعر المحرم وانتساخ كتب البدع المحرمة، وكاستئجار المغنية والنائحة للغناء والنوح، لأنه استئجار على معصية، والمعصية لا تستحق بالعقد."

(شروط صحۃ الاجارۃ،ج:5،ص:3817،ط:دار الفکر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح."

(کتاب الشرکۃ،ج:6،ص:59،ط:دار الکتب العلمیۃ)

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة."

(کتاب الاجارۃ ،باب الاجارۃ الفاسدۃ،ج:6،ص:63،ط:سعید)

وفیہ ایضا:

"وفي الدرر: لا يستحق الربح إلا بإحدى ثلاث: بمال، أو عمل، أو تقبل."

(کتاب الشرکۃ،قبیل فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج:4،ص:324،325،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144408101239

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں