بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

جانورکی ایک داڑھ دوسری داڑھوں سے بڑھی ہوئی ہواس کی قربانی کرنا


سوال

جس جانور کی ایک داڑھ دوسری داڑھوں سے بڑھی ہوئی ہو تو اس جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

جواب

  صورتِ مسئولہ میں اگر جانور کی ایک داڑھ دوسری داڑھوں سے بڑھی ہوئی ہونے کے باوجود  چارہ کھانے میں کوئی رکاوٹ نہیں،تو  اس کی   قربانی   کرناجائزہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(وأما صفته) : فهو أن يكون سليما من العيوب الفاحشة، كذا في البدائع."

( كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، (5/ 297) ط: رشيدية)

وفیہ ايضاً:

"ومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل أصلا ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع، ثم كل عيب يمنع الأضحية ففي حق الموسر يستوي أن يشتريها كذلك أو يشتريها وهي سليمة فصارت معيبة بذلك العيب لا تجوز على كل حال، وفي حق المعسر تجوز على كل حال، كذا في المحيط."

( كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب،ج:ص:299،ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100245

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں