بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

جانور ذبح کرنے کے لیے تیز دھار آلہ کا ہونا ضروری ہے


سوال

جانور ذبح کرتے وقت تیز دھار آلہ  چھری وغیرہ موجود نہ ہو اور جانور مردار ہونے کا خدشہ ہو تو کیا ایسی صورت میں کوئی پتھر وغیرہ سے اس کے حلق کو رگڑا جائے اور سر کو جدا کردیا جائے تو کیا یہ درست ہے اور یہ ذبیحہ حلال ہو گا یا نہیں ؟

جواب

  ذبحِ اختیاری میں یہ بھی ضروری ہے کہ گلے کی چاروں رگیں (کھانے کی نالی، سانس کی نالی اور خون کی نالیاں) یا ان میں سے اکثر کٹ جائیں، اور  ذبح کرنے والا خود جانور کو  تیز دھار آلہ سے ذبح کرے، (اگر آلہ کی تیزی کے بجائے اس کے دباؤ سے  دم گھٹنے کی وجہ سے جانور مرجائے تو وہ مردار ہوگا)۔

صورتِ مسئولہ میں جس پتھر سے اس کے حلق کو رگڑایا کاٹا  جا رہا ہے اگر اس میں دھار ہو جس کی وجہ سے اس کی مذکورہ چار رگیں یا ان میں سے اکثر کٹ جائیں  تو اس سے وہ جانور حلال ہو جائے گااور سر کو جدا کرنا مکروہ ہے، لہذا اس سے بچا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"(و) حل الذبح (بكل ما أفرى الأوداج) أراد بالأوداج كل الأربعة تغليبًا (وأنهر الدم) أي أساله(ولو) بنار أو (بليطة) أي قشر قصب (أو مروة) هي حجر أبيض كالسكين يذبح بها."

(جلد۶، ص:۲۹۵، ط:سعيد)

الجوهرة النيرة میں ہے:

"قوله : ( ومن بلغ بالسكين النخاع أو قطع الرأس كره له ذلك وتؤكل ذبيحته ) النخاع عرق أبيض في عظم الرقبة ويكره له أيضا أن يكسر العنق قبل أن تموت وأن يخلع جلدها قبل أن تبرد".

(کتاب الصید والذبائح، جلد۲، ص:183، ط: المطبعة الخيرية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101284

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں