بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

جانور کی ناک میں رسی باندھنے کے وجہ سے زخم ہونے کے صورت میں قربانی کا حکم


سوال

بکرے کی ناک میں رسی باندھنے کی وجہ سے گٹے کی طرح ایک سے چارجگہ ناک کےآس پاس زخم ہوگیاہے، لیکن بکرے میں کوئی پیدائشی عیب نہیں ہے، اور بکرا صحت مند ہے ترو تازہ ہے، کیا ایسے جانور کی قربانی کر سکتے ہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ جانور جس کوصرف رسی باندھنے کی وجہ سے گٹے کی طرح ایک سے چارجگہ ناک کےآس پاس زخم ہوگیاہے،اور دیکھنے میں وہ تندرست نظر آتاہے،تو یہ اس کی قربانی کے لیے مانع نہیں ہے،اور مذکورہ جانور کی قربانی کرنا درست ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(لا) (بالعمياء والعوراء والعجفاء) المهزولة التي لا مخ في عظامها (والعرجاء التي لا تمشي إلى المنسك) أي المذبح، والمريضة البين مرضها". 

(کتاب الأضحیة، ج:6، ص:323، ط: سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(وأما صفته) : فهو أن يكون سليما من العيوب الفاحشة، كذا في البدائع."

( كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:297، ط: رشیدیة)

وفیہ ايضاً:

"ومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل أصلا ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع، ثم كل عيب يمنع الأضحية ففي حق الموسر يستوي أن يشتريها كذلك أو يشتريها وهي سليمة فصارت معيبة بذلك العيب لا تجوز على كل حال، وفي حق المعسر تجوز على كل حال، كذا في المحيط."

(كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:299، ط: رشیدیة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144411102637

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں