بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

جانور کے پیر سے متعلق سوال


سوال

قربانی کے جانور کے پیر کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر آپ قربانی کے جانور کے پائے کھانے سے متعلق سوال کر رہے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جانور کے پائے کھانا جائز ہے، خواہ کھال اتار کر  پکائے جائیں یا کھال کو جلاکر اس سمیت کھائے جائیں۔

اور اگر آپ قربانی کے جانور کے پاؤں کی بیماری سے متعلق پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر قربانی کے جانور کے پاؤں میں تکلیف ہو تو اس کی قربانی ہو سکتی ہے یا نہیں؟  تو اس کا جواب یہ ہے کہ  اگر کسی جانور کی ٹانگ میں تکلیف ہو یا ٹانک ٹوٹ گئی ہو تو    اگر چلتے وقت ٹوٹی ہوئی  ٹانگ زمین پر بالکل نہ رکھے، بلکہ تین ٹانگوں کے سہارے چلے اور ٹوٹی ہوئی ٹانگ زمین سے اٹھا کر چلے تو یہ قربانی میں عیب ہے، اس کی موجودگی میں قربانی درست نہیں ہوگی،لیکن اگر   نوعیت ایسی ہو کہ جانور   چلتے ہوئے اس ٹانگ کا  سہارا لے تو اس جانور کی قربانی درست ہوگی۔

اور اگر سوال  جانور کی چار سے زائد ٹانگ کے حوالے سے ہے تو واضح رہے کہ جس جانور کی چار سے زائد ٹانگیں ہوں، مثلًا پانچ ہوں یا چھ ہوں، اس جانور میں عیب ہونے کی وجہ سے اسے واجب قربانی میں ذبح نہیں کیا جاسکتا۔

اور اگر سوال کا منشا کچھ اور ہے تو اس کی وضاحت کر کے سوال دوبارہ ارسال کر دیں۔ 

الفتاوى الهندية (5/ 297):

"ولاتجوز العمياء والعوراء البين عورها، والعرجاء البين عرجها وهي التي لاتقدر أن تمشي برجلها إلى المنسك".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200274

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں