بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

جانور کے حرام اجزاء کے شوربہ کا حکم


سوال

جانور کے حرام اجزاء کو  پکا کر اس کا شوربہ کھانا کیسا ہے؟

جواب

حلال جانورکی سات چیزیں حرام ہیں جن کا کھانایا ان سے شوربہ بنا کر ان کا  شوربہ  پینا/ کھانا بھی جائزنہیں ہے:

1۔ دم مسفوح یعنی بہنےوالاخون۔

2۔ پیشاب کی جگہ(نرومادہ کی)۔

3۔ خصیے(فوطے)۔

4۔ پاخانے کی جگہ۔

5۔ غدود(سخت گوشت) یہ ہر جانور میں نہیں ہوتا، بعض اوقات بیماری کی وجہ سے گوشت سخت ہوجاتا ہے۔

6۔ مثانہ(پیشاب کی تھیلی)۔

7۔ پتہ۔

بعض فقہاء نےحرام مغزکوبھی حرام لکھا ہے، لیکن راجح قول یہ ہے کہ یہ حرام نہیں ہے۔ 

کفایت المفتی میں ہے کہ حرام مغز نہ حرام ہے نہ مکروہ۔

پیٹھ کی ہڈی میں کمرسےلےکرگردن تک سفید ڈوری حرام مغزکہلاتی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(كره تحريما) وقيل تنزيها والأول أوجه (من الشاة سبع الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر) للأثر الوارد في كراهة ذلك."

(مسائل شتی، جلد 6 ص:749، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311101680

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں