بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

جنت کی نہروں میں سے کون سی نہر کس کو ملے گی؟


سوال

جنت کی نہروں میں سے کون سی نہر کس کو ملے گی؟  وضاحت  کے لیے درخواست ہے۔

جواب

واضح رہے کہ  اللہ تعالی نے قرآن مجید میں جہاں بھی جنت کی کسی نعمت کا وعدہ فرمایا تو اس کی بنیاد ایمان اور عمل صالح کو قرار دیا اور  تمام نعمتوں کو مجہول رکھا کہ کون سی نعمت کس ملے گی ، تاکہ انسان زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ کرے اور  جنت کی ہر نعمت  کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کرے جیسے قرآن میں اللہ تعالی نے نیک لوگوں کے لیے انعامات بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا  کہ ان نعمتوں کو حاصل کرنے میں مسابقہ کرنا چاہیے؛ کیوں کہ کون سی نعمت کس کو ملے گی، اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔
 جیسے اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:

"وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (البقرة: 25)"

 اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل  کیے ہیں ان کو خوش خبری دے دو کہ ان کے  لیے ایسے باغات (تیار) ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی  جب کبھی ان کو ان (باغات) میں سے کوئی پھل رزق کے طور پر دیا جائے گا تو وہ کہیں گے ” یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی دیا گیا تھا “ اور انہیں وہ رزق ایسا ہی دیا جائے گا جو دیکھنے میں ملتا جلتا ہوگا   اور ان کے  لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ ان (باغات) میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ 

دوسری جگہ اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد مبارک ہے:

"إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ (22) عَلَى الْأَرَائِكِ يَنْظُرُونَ (23) تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ (24) يُسْقَوْنَ مِنْ رَحِيقٍ مَخْتُومٍ (25) خِتَامُهُ مِسْكٌ وَفِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ (26) وَمِزَاجُهُ مِنْ تَسْنِيمٍ (27) عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ " (سورۃ مطففین )

اور قرآن مجيد ميں الله تعالي نے نهروں كي قسميں  بيان فرمائي ليكن ان ساری قسم کی نہروں کے مستحق  متقی لوگوں کو ٹھہرایا کہ جو تقوی اختیار کرے گا وہ ان نہروں سے لطف اندوز ہوگا۔
قرآن حکیم  میں اللہ جل شانہ کا ارشاد مبارک ہے:

"مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهَارٌ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِنْ خَمْرٍ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى وَلَهُمْ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ" (14 سورۃ محمد)

ترجمہ: جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا جاتاہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں بہت سی نہریں تو ایسے پانی کی ہیں جس میں ذرا تغیر نہیں ہوگا،  اور بہت سی نہریں دودھ کی ہیں جن کا ذائقہ ذرا بدلا ہوا نہ ہوگا،  اور بہت سی نہریں شراب کی ہیں جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہو گی، اور بہت سی نہریں ہیں شہد کی جو بالکل صاف ہوگا، ا ور ان کے لیے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے بخشش ہوگی،  کیا ایسے لوگ ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور کھولتا ہوا پانی ان کو پینے کو دیا جائے گا سو وہ ان کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔ (بیان القرآن، للتھانوی رحمہ اللہ)

البتہ کون سی نہر کس کو ملے گی اس کا تعین دنیا میں نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ جنت  میں ایسی عالی شان نعمتیں ہیں کہ نہ کسی کی آنکھ نے  دیکھا ہےا ور نہ کسی کے کان نے ان کے متعلق سنا ہے اور نہ ہی کسی کے دل میں ان کا خیال گزرا ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:

"حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، وأبو كريب، قالا: حدثنا أبو معاوية، ح وحدثنا ابن نمير - واللفظ له - حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يقول الله عز وجل: أعددت لعبادي الصالحين، ما لا عين رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر على قلب بشر، ذخرا، بله ما أطلعكم الله عليه " ثم قرأ {فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين} [السجدة: 17]"

(باب صفۃ الجنة، الصحیح للمسلم)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307200052

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں