بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

جنتیوں کے درمیان ناراضی کا نہ ہونا


سوال

 دنیا میں جس شخص کے ساتھ گہری دوستی تھی، کسی وجہ سے تعلقات خراب ہوگئے،بات چیت بند ہو گئی تو کیا جنت میں وہ دونوں دوست ایک دوسرے سے ملاقات کرسکیں گے  یا وہاں بھی بات چیت نہیں کر سکیں  گے ؟

جواب

واضح رہے کہ مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے سے قطع تعلق کرنے کو شریعت نے سخت نا پسند فرمایا ہے، لہذا مذکورہ دونوں اشخاص کو ایک دوسرے سے معافی تلافی کرنی چاہیے اور  قطع تعلق ختم کرنا چاہیے ۔

نیز جہاں تک جنت میں جانے کے بعد کے احوال ہیں تو قرآن حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اہلِ  جنت  میں سے کسی کے دل میں  دوسرے کے لیے کدورت اور  رنجش ہوگی تو اللہ اس کے دل سے  کدورت نکال دیں گے، یعنی جنت میں جا کرکسی دو جنتیوں کے درمیان کوئی ناراضی نہیں ہوگی ،وہ سب آپس میں خوش و خرم رہیں  گے۔

معارف القران میں ہے:

"و نزعنا ما في صدورهم من غل تجري من تحتهم الانهر یعنی جنتی لوگوں کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کی طرف سے کوئی رنجش یا کدورت ہوگی تو ہم اس کو ان کے دلوں سے نکال دیں گے، یہ لوگ ایک دوسرے سے بالکل خوش ،بھائی بھائی ہو کر جنت میں جائیں گے اور بسیں گے۔

صحیح بخاری میں ہے کہ مومنین جب پل صراط سے گزر کر جہنم سے نجات حاصل کرلیں گے تو ان کو جنت و دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان کے آپس میں اگر کسی سے کسی کو رنجش تھی یا کسی پر کسی کا حق تھا تو یہاں پہنچ کر ایک دوسرے سے انتقام لے کر معاملات صاف کرلیں گے اور اس طرح حسد ، بغض، کینہ وغیرہ سے پاک صاف ہوکر جنت میں داخل ہوں گے۔"

(سورۃ الاعراف، آیت نمبر ۴۳، ج نمبر ۳ ص نمبر ۵۶۱، دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412100274

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں