بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 رمضان 1442ھ 11 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں رات کو ہم بستری کرنے کے بعد غسل کیے بغیر سونے اور فجر کا وقت داخل ہونے کے بعد غسل کرنے سے روزہ کے مکروہ ہونے کا حکم


سوال

اگر میں نے رمضان کے مہینہ میں بیوی سے ہم بستری کی اور فجر سے پہلے رات میں غسل نہیں کیا، بلکہ سوگیا، پھر صبح فجر کا وقت داخل ہونے کے بعد غسل کر کے فجر کی نماز پڑھ لی تو کیا میرا روزہ مکروہ ہوگیا ؟

جواب

اگر کسی شخص  پر غسل واجب  ہو اور وہ صبح صاد ق سے پہلے غسل نہ کرسکا  اور سحری کرکے روزہ رکھ لیا  اور فجر کے وقت میں غسل کرکے نماز ادا کرلی تو اس کا روزہ مکروہ نہیں ہوگا، بلکہ بلا کراہت درست ہے،   ناپاک ہونے کی وجہ سے  روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، البتہ  غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ  فجر کی  نماز قضا ہوجائے گناہ کا باعث ہے، اور دن میں بھی غسل نہ کرنے کی صورت میں کراہت ہوتی ہے۔

اور روزے کی حالت میں غسل  کا وہی طریقہ ہے جو عام حالات میں ہے، البتہ روزہ کی وجہ سے ناک میں اوپر تک پانی ڈالنا اور   کلی میں غرارہ کرنا درست نہیں ہے، اس لیے کہ ناک میں پانی چڑھانے سے یا غرارہ کرنے سے پانی حلق میں چلا گیا تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا، لہذا  صرف  کلی کرلے اور ناک میں پانی ڈال لے توغسل صحیح ہوجائے گا، افطاری کے بعد غرارہ کرنے یاناک میں پانی چڑھانے کی ضرورت  بھی نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 400):

"(أو أصبح جنبًا و) إن بقي كل اليوم ... (لم يفطر)".

الفتاوى الهندية (1/ 16):

"الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لايأثم، كذا في المحيط".

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144209201109

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں