بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

جنابت کی حالت میں روزہ رکھنے کی صورت میں کب تک غسل کرلینا لازم ہے؟


سوال

 جنابت کی حالت میں روزہ رکھا جائے تو ضروری ہے کہ نصف نہار سے پہلے پہلے غسل کر لیا جائے، اب نصف نہار کی تفصیل جاننا چاہوں گا، آیا نصف نہار روزے کے کل وقت سے شمار کیا جائے گا ؟ (مثلاً: روزہ کل 15 گھنٹے کا ہے تو کیا نصف 7:30 گھنٹے شمار ہو گا) یا مطلقاً روزہ جتنے بھی  گھنٹے کا ہو تو زوال کو نصف شمار کیا جائے گا؟  مہربانی فرما کر نصف نہار سے آگاہ فرمائیں!

جواب

جنابت کی حالت میں روزہ رکھنے کی صورت میں روزہ کے صحیح ہونے کے لیے کسی خاص وقت سے پہلے غسل کرنا شرط نہیں ہے، البتہ چوں کہ روزہ شروع ہوتے ہی سب سے پہلے فجر کی نماز فرض ہوتی ہے اور نماز پڑھنے کے لیے پاکی حاصل کرنا شرط ہے؛ اس لیے فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کے لیے فوراً  غسل کرلینا چاہیے، اگر پانی موجود ہوتے ہوئے فجر کے وقت میں غسل کرکے نماز نہیں پڑھی یا پانی موجود نہیں تھا یا اس کے استعمال پر قدرت نہیں تھی تو تیمم کر کے وقت کے اندر فجر کی نماز ادا نہیں کی تو  بہت بڑا گناہ کیا۔

باقی اگر کسی نے نصف النہار کے بعد غسل کیا تو بھی روزہ درست ہوجائے گا۔

نصف النہار شرعی سے مراد  صبح صادق اور غروبِ آفتاب کا بالکل نصف ہے، یعنی روزے کے مکمل وقت کو دو حصوں میں برابر تقسیم کیا جائے تو بالکل درمیانی وقت نصف النہار شرعی کہلاتاہے۔ اور یہ استواء الشمس (زوال) سے کچھ پہلے ہوتاہے، استواء الشمس کا مطلب ہے سورج طلوع ہونے سے غروب کا بالکل درمیانی وقت۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200716

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں