بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

جان کے خطرہ کی بناء پر اپنے اسلام کو چھپانے کا حکم


سوال

کیا کوئی مسلمان جان کا خطرہ ہونے کی بنا پر اپنے مسلمان ہونے کو چھپا   سکتا ہے؟

جواب

 اگر کوئی شخص کسی دنیاوی  مفاد کو حاصل کرنے کی لالچ  کے بغیر محض جان جانے کا خطرہ ہو نے كی بناء پراپنے مسلم ہونے کو اس طور پر چھپاتاہے   کہ اس کے دل میں ایمان بدستور باقی رہے تواضطراری اورسخت حالت کی بناء پر ایسے شخص کے لیے اس کی گنجائش ہے،اور ایسا شخص مسلمان ہی کہلائے گا۔

قرآنِ کریم میں ہے:

" مَنْ كَفَرَ بِاللَّه مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّه وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ."{النحل:106}

ترجمہ:" جو شخص ایمان لائے پیچھے اللہ سے کفر کرے مگر جس شخص پر زبردستی کی جائے بشرط یہ کہ اس کاقلب ایمان پر مطمئن ہو،ہاں جو جی کھول کر کفر کرےتو ایسے لوگوں پر اللہ تعالی کا غضب ہوگا اور ان کو بڑی سزا ہوگی۔" (از بیان القرآن)

شرح  صحیح البخاری لابن بطال میں ہے:

"وقد أرخص الله لمن خاف، وأكره على الكفر أن يضمر الإيمان بقوله: (‌إلا ‌من ‌أكره وقلبه مطمئن بالإيمان) [النحل: 106]".

(كتاب بدء الوحي، باب كيف كان بدء الوحي، ج:1، ص:48، ط: مكتبة الرشد - السعودية، الرياض)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501102093

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں