بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

جامع الترمذی استعمال ہونی والی مصطلحات کا مطلب اور ان کے درمیان پائے جانے والے تعارض کا حل


سوال

جامع ترمذی میں امام ترمذی نے یہ اصطلاحات استعمال کی ہیں:

ھذا  حديث حسن صحيح ، ھذا  حديث حسن غريب ، ھذا  حديث غريب حسن صحيح ۔

میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک ہی حدیث کے اتنے سارے درجات کیسے ہو سکتے ہیں؟  براہ کرم ان اصطلاحات کا مطلب واضح کر کے بتائیں۔  

جواب

محدثین عظام نے حدیث کے درجات متعین کرنےکے لیے مختلف الفاظ کا استعمال کیے ہیں، جیسے لفظ" صحیح"، "حسن"، "ضعیف"، "غریب" وغیرہ۔اور انہیں الفاظ کے ذریعہ وہ حدیث کے صحت ، ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کی تعریف پیش خدمت ہے۔

  • صحیح کی محدثین کے نزدیک دو اقسام ہیں: 

"صحیح لذاته:

صحیح کا لفظ اس حدیث کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس حدیث کے روایت کرنے والے تمام راوی عادل ہوں، ضبط حدیث یعني حفظ حدیث میں بھي کامل ہوں، سند شروع سے لے کر اخیر تک متصل ہو یعني کوئی بھي راوی بیچ میں ساقط نہ ہو، اور اس حدیث میں کسی بھي قسم کی علت نہ ہو ،  جو اس کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو،اور حدیث شاذ نہ ہو یعنی،اس حدیث کو روایت کرنے والا کوئی معتبر راوی کسی ایسی جماعت کی مخالفت نہ کرے جو اس سے زیادہ ثقہ اور معتبر ہوں۔

"صحیح لغیرہ":

اس حدیث کو کہا جاتا ہے جس کے تمام راوی میں صرف ضبط ناقص یعني حفظ حدیث میں کچھ کمي ہو ، اور اس کی سندیں متعدد ہوں۔

  • "حسن"علماء اصول حدیث کے نزدیک دو قسموں میں تقسیم ہوتی ہے:

"حسن لذاته":

وہ حدیث ہے جس کے راوویوں میں صرف ضبط ناقص ہو، باقي سب شرائط صحیح لذاتہ کی موجود ہوں۔

"حسن لغیرہ":

اس حدیث ضعیف  قابلِ انجبار کو کہا جاتا ہے جس کی سندیں متعدد ہوں۔

  • "غریب":

وہ حدیث ہےجس کے پوری سند میں کہیں نہ کہیں ایک راوی ہو، یعني اگر کسی روایت کو بیان کرنے والے تین اصحاب رسول ہیں تو ان سے روایت کرنے والا صرف ایک تابعی ہو۔

یہ تمام الفاظ جن تعریف بیان کی گئی ہےيه تعریفات  متاخرین محدثین کے نزدیک ہیں۔ متقدمین کے نزدیک ان  میں  سے بعض الفاظ کی تعریف میں  اختلاف پایا جاتا ہے۔جیسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کی تعریف جمہور محدثین سے مختلف کی ہے،  چناچہ ان کے نزدیک حسن  کا اطلاق اس حدیث پر کیا جاتا ہے جس کی سند میں کوئی ایسا راوی نہ ہو جس پر جھوٹ کی تہمت لگائی گئی ہو، حدیث شاذ نہ ہو، اور وہ روایت ایک سے زائد سند سے مروی ہو ۔چناچہ وہ فرماتے ہیں:

"كل حديث يروى لا يكون في إسناده من يتهم بالكذب، ولايكون الحديث شاذا، ويروى من غير وجه نحو ذلك فهو عندنا حديث حسن"

(جامع الترمذي، كتاب العلل الصغير، ص: 35، ط: البشري)

پھر امام ترمذی رحمہ اللہ كا منہج یہ ہےکہ وہ   کسی بھی حدیث کا حکم بیان کرنے کے لیے ایک سے زائد الفاظ کا استعمال کرتے ہے، جیسے: "حسن صحیح" ، "حسن غریب"، اور"صحیح حسن غریب" وغیرہ۔

اب سوال یہ ہے کہ ایک ہی حدیث کے ایک سے زائد درجات کیسے ممکن ہے؟ چناچہ محدثین نے اس کی کچھ توجیہات پیش کی ہیں، جو ذیل میں درج کی جاتی ہیں: 

  • "حسن صحیح":
  • حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی توجیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر  حدیث کی صرف ایک ہی سند سے منقول ہو تو اس وقت حسن صحیح کا مطلب ہوگا کہ روایت بیان کرنے والے کو اس بات میں شک ہے کہ آیا اس حدیث میں حسن کی شرائط موجود ہیں یا پھر صحیح کی۔چناچہ اس شک کی بنا پر اس حدیث کا درجہ اس حدیث سے کم ہوگا جس میں صرف صحیحکا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کی بنیادی  وجہ یہ ہے کہ وہاں حدیث کے حکم میں کسی قسم کا شک نہیں،  جبکہ یہاں شک موجود ہے ۔البتہ اگر حدیث ایک سے زائد سندوں سے منقول ہو تو وہاں اس کا مطلب ہوگا کہ ایک سند صحیح درجہ کی ہے ، جبکہ دوسری سند حسن درجہ کی ہے۔

(نزهة النظر في شرح نخبة الفكر،الحسن لذاته، ص: 67، تحقيق: نور الدين عتر، ط: البشرى1438ھ)

  • علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ"حسن صحیح" کا حکم اگر کسی حدیث پر ہو تو اس سے مراد ہوگا کہ وہ حدیث سند کے اعتبار سے تو حسن ہے،البتہ اس باب میں بیان کی ہوئی تمام احادیث میں سب سے زیادہ صحیح ترین روایت ہے۔جبكه ايك اور توجيه بيان كرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حسن سے مراد حسن لذاتہ ہے اور صحیح سے مراد صحیح لغیرہ ہے۔

البحر الذي زخر في شرح الفية الأثرميں ہے:

"وظهر لي توجيهان آخران" أحدهما: أن المراد حسن لذاته صحيح لغيره، والآخر: أن المراد حسن باعتبار إسناده، صحيح أي أنه أصح شيء ورد في الباب."

(البحر الذي زخر في شرح ألفية الأثر، ص: 3/ 1241-1243، ط: الغرباء الأثرية)

  • "حسن غريب":امام ترمذی رحمہ اللہ کے نزدیک حسن کی تعریف جو پیش کی گئی ، اور غریب  کی جو تعریف بیان کی گئی، اس کوجمع کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہےکہ کسی بھی حدیث پر بیک وقت حسن اور غریب کا حکم لگانا امام ترمذی رحمہ اللہ کے نزدیک ممکن نہیں۔اس کی وجہ یہ ہےکہ حسن کی تعریف میں امام ترمذی رحمہ اللہ نے سند کے متعدد ہونے کی قید لگائی ہے، جبکہ غریب میں سند کا تفرد ہوتا ہے ، یعني سند میں کہیں ایک راوی موجود ہوتا ہے۔ اس کی توجیہ امام زرکشی رحمہ اللہ نے یہ پیش کی ہے کہ غریب کی دو قسمیں ہے: ایک غریب وہ ہے جو متن کے اعتبار سے ہو، یعنی حدیث کا وہ متن سوائے ایک سند سے کہیں سے بھی ثابت نہ ہو۔دوسرا غریب وہ ہے جس کا متن تو مشہور ومعروف ہو، البتہ سند کے اعتبار سے غریب ہو۔مثال کے طور کوئی حدیث صحابہ کے درمیان مشہور ہو ، البتہ ان میں بعض اس کو کسی صحابی سے روایت کرنے میں منفرد ہوں۔اب اگر"حسن غریب" میں غریب سے غریب کی دوسری قسم مراد لی جائے، یعني غرابت، سند کی وجہ سے ہو، لیکن متن مشہور اور حسن درجہ کا ہو تو اس وقت کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔

(النكت على ابن الصلاح،النوع الثاني معرفة الحسن، 2/293، ط:دار ابن حزم)

  • "صحيح حسن غريب":

امام ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ شرح علل الترمذی میں اس کی توجیہ ذکر  کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہےکہ:اگر کسی حدیث پر "صحیح حسن غریب" کا حکم ہو تو وہاں غریب سے مراد یہ ہوگا کہ حدیث میں موجود الفاظ صرف اسی ایک سند سے ثابت ہیں، البتہ اس حدیث کا موضوع ومضمون دیگر احادیث سے بھی ثابت ہے، اگر چہ اس کے الفاظ مختلف ہوں، اسی بنا پر سند کے اعتبار سے چونکہ وہ الفاظ صرف  خاص اس سند سے ثابت ہیں ، یہ سند غریب کہلائے گی، لیکن چونکہ اس کا مضمون اور موضوع دیگر احادیث سے ثابت ہے، تو اس پر"حسن صحیح"کا اطلاق کرنا صحیح ہوگا۔   

(شرح علل الترمذي، فصل في الحديث الحسن وما يتفرع على شروطه، 1/384-386، ط:دار السلام)

باقي تمام اصطلاحات جو امام ترمذى رحمه الله نے اپنی کتاب میں استعمال کی ہیں، اس میں وہی معانی مراد ہوں گے  جو جمہور محدثین نے مراد لیے ہیں۔

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144502101351

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں