بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مسجدِ حرام میں جماعتِ ثانیہ کرانا


سوال

سفر عمرہ میں مدینہ سے واپس مکہ آتے ہوئے اکثر رات ہوجاتی ہے اور عشاء کی نماز حرمِ مکی میں نہیں ملتی تو کیا ایسی صورت میں اپنے گروپ کے احباب کے ساتھ مسجدِ حرام میں باجماعت نماز ادا کی جاسکتی ہے؟

جواب

جس مسجد میں پنج وقتہ نماز باجماعت  ادا کی جاتی ہو  اور وہاں امام ومؤذن مقرر ہو ، وہاں ایک جماعت ہوجانے کے بعد دوبارہ جماعت کرانا مکروہِ تحریمی ہے،  مسجد حرام کا بھی یہی حکم ہے، ایسی صورت میں مسجد سے باہر کسی جگہ جماعت کرالیں، مسجدِ حرام سے باہر صحن جہاں باجماعت نماز کی صفیں بھی بنائی جاتی ہیں، وہ حدودِ مسجد سے باہر ہے، وہاں جماعت کرائی جاسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144108201534

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں