بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

جامع مسجد میں جمعہ نہ ہو تو معتکف کے لیے نکلنے کا حکم


سوال

 دو آدمی جامع مسجد میں اعتکاف کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں، لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے جامع مسجد میں نماز جمعہ نہیں ہورہی تو کیا معتکف نمازِ جمعہ کے لیے قریب کے گھر میں جہاں جمعہ کی نماز ہوتی ہے مسجد سے نکل سکتا ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر دو افراد مسجد میں مزید آسکتے ہوں (یعنی امام کے علاوہ تین افراد جمع ہوسکتے ہوں )اور وہ مل  کر جمعہ قائم کرسکتے ہوں  تو چار افراد  مل کر جمعہ کا اہتمام مسجد میں ہی کرلیں۔ بصورتِ دیگر چوں کہ جمعہ کی نماز کے لیے جانا شرعی ضرورت ہے؛ اس لیے  معتکف جمعہ کی نماز پڑھنے قریب کے گھر میں  جاسکتا ہے، لیکن نمازِ جمعہ ادا کرتے ہی فورًا مسجد میں لوٹ آئے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 444):

"(و حرم عليه) ... (الخروج إلا لحاجة الإنسان) طبيعية كبول و غائط و غسل لو احتلم و لايمكنه الاغتسال في المسجد، كذا في النهر (أو) شرعية كعيد وأذان لو مؤذناً وباب المنارة خارج المسجد و (الجمعة وقت الزوال ومن بعد منزله) أي معتكفه (خرج في وقت يدركها) مع سنتها يحكم في ذلك رأيه، ويستن بعدها أربعاً أو ستاً على الخلاف، ولو مكث أكثر لم يفسد؛ لأنه محل له وكره تنزيهاً؛ لمخالفة ما التزمه بلا ضرورة."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109203290

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں