بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

جعلی ڈگری بنواکر ملازمت کرنا


سوال

السلام علیکم مفتی کرام میں2006میں ایک یو نیو رسٹی میں زیر تعلیم تھا ایک سمیسٹر پڑھ کرمیرے دوستوں‌کے تعلقات سے2007میں نے اس یو نیو رسٹی سےپیسو ں کی ذریعےبی ایس آئی ٹی ڈگری حاصل کر لی ،اور اس وقت میں ایک ادارے میں کمپو ٹر کے شعبےمیںڈیٹا کو رڈینیٹرکے عہدے پرفائزتھا پھر اس کے بعد میں نے ایک یو نیو رسٹی سے ایم ایس کرلیا اور ساتھ ساتھ نو کری بھی چل رہی تھی مگر یہ نو کری ڈگر ی کے بنا پر نہیں تھی کیوں کہ میں ڈگر ی سے پہلےاس عہدے پر فائز تھاجب میں نے ایم ایس کمپیو ٹر نیٹ ورک اینڈکمیو نیکشن کی ڈگری حاصل کرلی تو میں نےیہ نو کری چھو ڑ دی.اب میں ان ڈگریو ںاور تجربے کے بنا پر ایک اسپتال میںآئی ٹی منیجرکے عہدے پردو2سال سے فائز ہو ں ،اور ان کے جو کام ہے وہ کر کے دے رہا ہو ں آئی ٹی سے متعلق اور کچھ آئی ٹی الگ اسٹور وغیرہ کے انٹری اور آڈیٹ کا کام بھی سرانجام دے رہا ہو جو کہ میر ے ڈیو ٹی میں شامل نہیں .اب اس وقت میرے پاس کل تجربہ آٹھ 8 سال کا ہے، کیا اس ڈیو ٹی سے حاصل ہو نا والی تنخو اہ میرے لئے حلال ہے ؟اب اگر میں کچھ نیٹ ورک کےمزید انٹرنیشنل سرٹیفکٹ کو رس کرلو۔مزید ماہرات حاصل کرنے کے لئے،تو کیا میں اس ڈگری کے بنا پر اور ان کورس کے بنا پر کہی دوسری جگہ انجنئر یا منیجر عہدے کی نو کری کرسکتا ہو ں ؟وہ میرے لئے حلا ل ہو گی؟یا میں ویب ڈیولپمنٹ جو مجھےآتی ہے اس ڈگری کے بنا پر وہ کام کرسکتا ہو ں؟یا ڈگری دیکھائے بغیر میں یہ کام کرو؟آپ سے درخواست ہے کہ جلدی جواب ارسال کرے تاکہ میں جلدی سے کو ئی فیصلہ کرسکو ۔آپ کے جو اب کامنتظر

جواب

جعلی ڈگری بنوا کر آپ دھوکہ دہی کے گناہ کے مرتكب ہوئے ہیں ،اس عمل پر توبہ کریں، البتہ جو ملازمت آپ نے کی، یا کررہے ہیں یا آئندہ کرنے کا ارادہ ہے تو اگر اس کی مطلوبہ استعداد کے آپ حامل ھیں تو اس سے حاصل شدہ آمدنی حلال ہے۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143501200010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں