بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الثانی 1442ھ- 05 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

جلد کام کردینے پر مقررہ اجرت سے زیادہ اجرت دینا


سوال

اگر کوئی شخص ایک صحیح کام کرتا ہے جو کہ اس کی نوکری میں شامل ہے، لیکن اسے اس کام کو جلدکرنے کی کچھ رقم ملتی ہے اور رقم دوسرا شخص اپنی مرضی سے دیتا ہے۔ کیا یہ پیسے لینا جائز ہے؟

جواب

اگر کسی ملازم کی تنخواہ متعین ہے اور اس کے ذمہ کام مقرر ہے، اور یہ شخص اپنے مقررہ کام کے عوض متعین اجرت سے زائد طلب نہیں کرتا، لیکن جلد کام کرنے یا زیادہ احسن انداز میں ذمہ داری ادا کرنے پر اسے اس کی اجرت سے زائد رقم دی جاتی ہے تو مذکورہ شخص کے لیے اس رقم کا لینا  درست ہے۔

یہ عمومی سوال کا اصولی جواب ہے۔ اگر کسی مخصوص صورت سے متعلق آپ دریافت کرنا چاہتے ہوں تو   مکمل وضاحت کے ساتھ دوبارہ سوال لکھ کر  جواب طلب فرمالیں۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200058

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں