بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

جیکٹ کی ٹوپی کے ڈھوری کا نماز میں لٹکنے کا حکم، اور پیشاب کے بعد پانی سے استنجاء کا حکم


سوال

1۔ ہم جو عموماً جیکٹ پہنتے ہیں اس کی ٹوپی کے اندر سے ایک لمبا دھاگہ ہوتا ہے جو ٹوپی کے دونوں اطراف کے  سامنے کی طرف آویزاں رہتے ہیں ،  کیا اس کپڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے؟  کیا یہ سدل میں آتا ہے؟

2۔  پیشاب کرنے کے بعد کیا پانی سے استنجا کرنا ضروری ہے؟  ہم نے سُناہے  کہ پیشاب کرنے کے بعد اگر پانی میسر نہ ہو تو استنجا ضروری نہیں ہے،  صرف پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استنجاء کرنا ضروری ہے ،  اگر جائز نہیں تو اس صورت میں پڑھی جانے والی نمازوں کی قضا ضروری ہے یا نہیں ؟

جواب

ملا علی قاری رحمہ اللہ  نے  لکھا ہے کہ سدل لغت میں کہا جا تا ہے 'الإرخاء والإرسال' یعنی چھوڑنے اور لٹکانے کو کہاجاتاہے اور اصطلاح میں 'الإرسال بدون المعتاد' یعنی کپڑے کو خلافِ عادت طریقے سے لٹکانے کو کہاجاتاہے۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"السدل في اللغة: الإرخاء والإرسال. وفي الشرع: الإرسال بدون المعتاد."

(کتاب الصلاة، باب الستر، ج: 2، ص: 438، ط: رشيدية)

اور ہدایہ میں ہے:

"و هو أن يجعل ثوبه علي راسه و كتفيه ثم يرسل أطرافه من جوانبه."

(كتاب الصلاة، فصل في مكروهات الصلاة، ج: 1، ص: 143، ط: رحمانية)

ترجمہ: " (سدل یہ ہے کہ) وہ اپنا کپڑا اپنے سر یا کندھوں پر رکھے پھر اس کے کناروں کو (بغیر ملائے )چھوڑدے"

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وهو أن يجعل ثوبه علي رأسه أو كتفيه فيرسل جوانبه."

(کتاب الصلاة، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره، ج: 1، ص: 106، ط: رشيدية)

ترجمہ: " (سدل یہ ہے کہ) وہ اپنا کپڑا اپنے سر یا کندھوں پر رکھے ، پھر اس کے کناروں کو (بغیر ملائے )چھوڑدے"

فتاوی شامی میں ہے:

"وفسره الكرخي بأن يجعل ثوبه علي رأسه أو علی كتفيه ويرسل أطرافه من جانبه إذا لم يكن عليه سراويل."

(‌‌رد المحتار،كتاب الصلاة، ‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1، ص: 639، ط: سعید)

ترجمہ:  "کرخی نے اس (سدل ) کی تفسیر یہ کی ہے کہ وہ اپنا کپڑا اپنے سر یا کندھوں پر رکھے پھر اس کے کناروں کو (بغیر ملائے )چھوڑدےاور وہ پاجامہ نہ پہنے ہوئے ہو"

1۔ لہذا  ان تعریفات  سے معلوم ہواکہ جیکٹ کی ٹوپی میں جواطراف میں ڈوری   لٹک رہی ہوتی ہے اس کےساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں، یہ  سدل کے حکم  میں داخل نہیں ہوگا۔

2۔  پیشاب یا پاخانہ کرنے کے بعداگر  نجاست شرم گاہ کے اردگرد  نہ پھیلی ہو  (یعنی نجاست اپنے نکلنے کی جگہ سے ادھر ادھر نہ لگی ہو) تو اس صورت  میں استنجا میں  ڈھیلے  اور پانی دونوں کا جمع کرنا بہتر ہے، اور کسی ایک پر اکتفا  کرنا بھی جائز ہے،تاہم اس صورت میں  پانی نہ ہو نے کی وجہ سے ڈھیلا یا ٹشو پیپر استعمال کرنا بھی جائز ہوگا اورپانی استعمال کیے بغیر نماز بھی صحیح ہوگی۔ اور اگر نجاست شرم گاہ کے ارد گرد پھیل گئی ہو لیکن  قدر درہم سے زائدنہیں ہوئی ہو،   تو  اس صورت میں صرف  ڈھیلے  پر اکتفا  کرنا درست نہیں ہوگا،  بلکہ پانی  سے اس کو پاک کرنا ضروری ہوگا،پانی سے دھوئے بغیر نماز پڑھنامکروہِ تحریمی ہے۔اور اگر نجاست شرم گاہ کے ارد گرد پھیل گئی ہو اور قدر درہم سے زائد ہوگئی ہو تو پھر  دھونا فرض ہے،پانی سے دھوئے بغیر اگر نماز پڑھ لی تو وہ باطل ہوگی۔ 

فتاوی شامی میں ہے: 

"إزالة نجس عن سبيل فلايسنّ من ريح وحصاة ونوم وفصد (وهو سنة) مؤكدة مطلقا، وما قيل من افتراضه لنحو حيض ومجاوزة مخرج فتسامح.

وفي الرد:  (قوله: وهو سنة مؤكدة) صرح به في البحر عن النهاية ثم عزاه أيضًا إلى الأصل وعلله في الكافي بمواظبته عليه صلى الله عليه وسلم. ونقل في الحلية الأحاديث الدالة على المواظبة وما يصرفها عن الوجوب فراجعه. وعليه فيكره تركه كما في الفتح مستدركًا على ما في الخلاصة من نفي الكراهة، ونحوه في الحلية، وأوضح المقام الشيخ إسماعيل في شرحه على الدرر فراجعه. ثم رأيته في البدائع صرح بالكراهة. (قوله: مطلقًا) سواء كان الخارج معتادًا أم لا رطبًا أم لا ط وسواء كان بالماء أو بالحجر، وسواء كان من محدث أو جنب أو حائض أو نفساء على ما ذكره هنا. (قوله: وما قيل إلخ) دفع لما يخالف الإطلاق المذكور، والقائل بذلك صاحب السراج والاختيار وخزانة الفقه والحاوي القدسي والزيلعي وغيرهم وأقرهم في الحلية، واعترضهم في البحر بأنه تسامح؛ لأنه من باب إزالة الحدث إن لم يكن على المخرج شيء، وإن كان فهو من باب إزالة النجاسة الحقيقية. اهـ.

أقول: لا شك أن غسل ما على المخرج في الجنابة يسمى إزالة نجس عن سبيل، فقد صدق عليه تعريف الاستنجاء وإن كان فرضا. وأما إذا تجاوزت النجاسة مخرجها، فإن كان المراد به غسل المتجاوز إذا زاد على الدرهم، فكونه تسامحا ظاهر؛ لأنه لا يصدق عليه التعريف المذكور وإن كان المراد غسل ما على المخرج عند التجاوز بناء على قول محمد الآتي فلا تسامح، يدل عليه ما في الاختيار من أن الاستنجاء على خمسة أوجه: اثنان واجبان:

أحدهما: غسل نجاسة المخرج في الغسل من الجنابة والحيض والنفاس كي لاتشيع في بدنه.

والثاني: إذا تجاوزت مخرجها يجب عند محمد قل أو كثر وهو الأحوط؛ لأنه يزيد على قدر الدرهم، وعندهما يجب إذا جاوزت قدر الدرهم؛ لأن ما على المخرج سقط اعتباره، والمعتبر ما وراءه.

والثالث: سنة، وهو إذا لم تتجاوز النجاسة مخرجها.

والرابع: مستحب، وهو ما إذا بال ولم يتغوط فيغسل قبله.

والخامس: بدعة، وهو الاستنجاء من الريح. اهـ."

(رد المحتار، كتاب الطهارة، ‌‌باب الأنجاس، ‌‌فصل الاستنجاء، ج: 1، ص: 336،335، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويجب) أي: يفرض غسله (إن جاوز المخرج نجس) مائع ويعتبر القدر المانع لصلاة (فيما وراء موضع الاستنجاء) ؛ لأن ما على المخرج ساقط شرعًا و إن كثر، و لهذا لاتكره الصلاة معه.

وفي الرد: (قوله: و يجب أي: يفرض غسله) أعاد الضمير على الغسل دون الاستنجاء؛ لأن غسل ما عدا المخرج لا يسمى استنجاء، وفسر الوجوب بذلك؛ لأن المراد بالمجاوزة ما زاد من الدرهم بقرينة ما بعده، ولقوله في المجتبى: 'لايجب الغسل بالماء إلا إذا تجاوز ما على نفس المخرج و ما حوله من موضع الشرج وكان المجاوز أكثر من قدر الدرهم ". اهـ. ولذا قيد الشارح النجس بقوله مائع. والشرج بالشين المعجمة والجيم: مجمع حلقة الدبر الذي ينطبق كما في المصباح. (قوله: إن جاوز المخرج) يشمل الإحليل، ففي التتارخانية: و إذا أصاب طرف الإحليل من البول أكثر من الدرهم يجب غسله هو الصحيح. ولو مسحه بالمدر، قيل يجزئه قياسا على المقعدة، وقيل: لا، و هو الصحيح اهـ."

(رد المحتار، كتاب الطهارة، ‌‌باب الأنجاس، ‌‌فصل الاستنجاء، ج: 1، ص: 339،338، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والاستنجاء بالماء أفضل إن أمكنه ذلك من غير كشف العورة. وإن احتاج إلى كشف العورة يستنجي بالحجر ولا يستنجي بالماء. كذا في فتاوى قاضي خان والأفضل أن يجمع بينهما كذا في التبيين. قيل هو سنة في زماننا وقيل على الإطلاق وهو الصحيح وعليه الفتوى كذا في السراج الوهاج. ثم الاستنجاء بالأحجار إنما يجوز إذا اقتصرت النجاسة على موضع الحدث فأما إذا تعدت موضعها بأن جاوزت الشرج أجمعوا على أن ما جاوز موضع الشرج من النجاسة إذا كانت أكثر من قدر الدرهم يفترض غسلها بالماء ولا يكفيها الإزالة بالأحجار وكذلك إذا أصاب طرف الإحليل من البول أكثر من قدر الدرهم يجب غسله."

(كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة وأحكامها، الفصل الثالث في الاستنجاء، ج: 1، ص: 48، ط:رشيدية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144410100035

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں