بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

جاؤ تم کو تین طلاق دیا کے الفاظ سے طلاق کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی سے جھگڑے کے دوران غصہ کی حالت میں کہا کہ: جاؤ تم کو تین طلاق دیا تو کیا طلاق واقع ہوجاۓ گی ؟حوالہ کے ساتھ جواب  دیں ۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ شوہر نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ :"جاؤ تم کو تین طلاق دیا " تو اس  سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور بیوی اپنے شوہر پر  حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے،  اب رجوع اور دوبارہ نکاح کی گنجائش  نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة).....(ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح (واحدة رجعيةوإن نوى خلافها) من البائن أو أكثر خلافا للشافعي (أو لم ينو شيئا) ولو نوى به الطلاق

و في الرد : (قوله رجعية) أي عند عدم ما يجعل بائنامطلب الصريح نوعان رجعي وبائن ففي البدائع أن الصريح نوعان: صريح رجعي، وصريح بائن. فالأول أن يكون بحروف الطلاق بعد الدخول حقيقة غير مقرون بعوض ولا بعدد الثلاث لا نصا ولا إشارة ولا موصوف بصفة تنبئ عن البينونة أو تدل عليها من غير حرف العطف ولا مشبه بعدد أو صفة تدل عليها. وأما الثاني فبخلافه، وهو أن يكون بحروف الإبانة بحروف الطلاق، لكن قبل الدخول حقيقة أو بعده، لكن مقرونا بعدد الثلاث نصا أو إشارة أو موصوفا بصفة تنبئ عن البينونة أو تدل عليها من غير حرف العطف، أو مشبها بعدد أو صفة تدل عليها. اهـ

(کتاب الطلاق باب صریح الطلاق ج نمبر ۳ ص نمبر  ۲۴۷،ایچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

(والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين)

و في الرد: (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى

(کتاب الطلاق باب صریح الطلاق ج نمبر ۳ ص نمبر ۲۳۳،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200382

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں