بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کو جہیز دے کر وراثت میں حصہ نہ دینا


سوال

میں آپ سے " کیا وراثت میں بہنوں کو حصہ دینا لازم ہے" کے بارے میں اپنی بیٹی کی شادی کے حالات کے تناظر میں پوچھنا چاہتا ہوں، حالات یہ ہیں کہ چند دن پہلے میری اکلوتی بیٹی کی شادی ہوئی ہے، میرے شدید اعتراض اور شریعت کی روشنی میں منع کرنے کے باوجود میری بیوی اور بیٹی نے مل کر زبردستی دھونس دھمکیوں کے ساتھ جہیز اور باقی فضول کاموں یعنی مایوں، مہندی، بینکیوٹ ہال کی ضرورت سے زیادہ ڈیکوریشن وغیرہ وغیرہ کے نام پر میری حیثیت اوقات سے کہیں زیادہ خرچ کروا دئیے، مطلب یہ کہ میری کل وراثت کا تقریباً 60 فیصد اس شادی پر جھونک دیا،  مجھے بہت برے طریقے سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ میری بیوی اور بیٹی نے مل کر میرے دو بیٹوں کے ساتھ شدید زیادتی کی ہے۔

میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی میری بیٹی میری وراثت کا جو کچھ بچ گیا ہے اس میں حصہ دار ہے؟ دوسرا یہ کہ میں اپنی حیات میں بچی کھچی وراثت اپنے بیٹوں کے نام کر دینا چاہتا ہوں کیا یہ صحیح ہے؟ اپنی بیوی اور بیٹی کی شدید ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے میں نے اپنی بیٹی کو ایک بیٹی کی طرح رخصت نہیں کیا ،کیونکہ دونوں کے بدترین رویے کی وجہ سے میرا دل بہت زیادہ خفا ہے۔سر جواب ضرور دیجئے گا۔

جواب

واضح رہے کہ زندگی میں اگر صاحب جائیداد اپنی جائیداد اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ ھبہ کہلاتا ہے اور اولاد کے درمیان ھبہ  کا حکم یہ ہے کہ سب میں برابری کی جائے، لہذا صورت ِمسئولہ میں ذکر کردہ تفصیل کی رو سے اگرچہ سائل کی بیٹی نے سائل کی منشاء کی خلاف ورزی کی ہے، لیکن اس کے باوجود اپنے وراثتی حق سے محروم نہیں ہوگی، اسی طرح سے زندگی میں جائیداد تقسیم کرنی ہو تو اپنے لیے رکھنے کے بعد مناسب حصہ بیوی کو بھی دے دیں ، البتہ  اولاد میں برابری کے حکم کو اس طرح پورا کیا جا سکتا ہے کہ بیٹی کی شادی میں ضرورت سے زائد جو رقم خرچ ہوئی ہے اس کی وجہ سے بیٹی کو بیٹوں سے کم حصہ دے دیں ایسا کرنا جائز ہوگا لیکن بالکل محروم نہ کریں، اور اگر سائل زندگی میں تقسیم نہیں کرنا چاہتا تو یہ بھی جائز ہے، پھر وراثت کے طور پر میراث تقسیم ہوگی ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"‌الارث ‌جبري لا يسقط بالاسقاط."

(‌‌‌‌كتاب الدعوى، باب التحالف، ج: 8، ص: 116، ط: دار الفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال»، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل".

( كتاب الوقف،ج:4،ص:444، ط:سعيد)

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144501102362

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں