بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

زہر دے کر قتل کرنے کا حکم / جس کا کوئی وارث نہ ہو، اس کی میراث کا حکم


سوال

1 ) جائیداد کے نام پر لینے اور نام پر کرنے میں کیا فرق ہے؟ اس کی فقہی تکییف اور واضح قیودات اور مثالیں بتائیں جن سے یہ سمجھنا آسان ہو کہ کن کن صورتوں میں سامنے والا(جس کے نام پر لیا جائے یا کیا جائے) مالک ہوگا ،اور کن میں نہیں ہوگا ؟ہر صورت کی وضاحت مطلوب ہے۔

2)   زہر دے کر مارنا، گلا گھوٹنا، پانی میں ڈوبادینا بھی قتل ہے،سوال یہ ہے کہ قتل کی پانچ اقسام میں سے کون سی قسم میں داخل ہے؟ نیز وراثت کے لحاظ سے یہ قتل مانع ہیں یا نہیں؟ اسی طرح کسی کو پیسے دےکر قتل کروانے والا یا کسی طرح مجبور کرکے قتل کروانے والا قاتل شمار ہوگا یا نہیں؟ قتل کی مشہور پانچ اقسام کے علاوہ اور کیا کیا قسمیں ہوسکتی ہیں، اور وہ مشہور پانچ اقسام (عمد، شبہ عمد، خطا، جاری مجری خطا اور بالسبب) میں سے کہاں داخل ہوں گی؟ ان کا وراثت سے مانع ہونے کے لحاظ سے کیا حکم ہوگا؟

3)  ایک لاوارث بچہ یتیم خانے میں بڑا ہوتا ہے ،اس کے ماں باپ رشتے وغیرہ میں سے کسی کا کوئی علم نہیں ہوتا،وہ بڑا ہوکر کمانے لگتا ہے اور کچھ عرصے بعد  وہ انتقال کرجاتا ہے،اس صورت میں اس کی ذاتی جائیداد کا مالک کون ہوگا؟ اور اگر وہ شادی کرلے لیکن  اولاد نہ ہو تو اس صورت میں  اس کی ذاتی جائیداد کا مالک کون ہوگا؟ 

جواب

1) واضح رہے کہ سوال :کلیات سے نہیں کیا جاتا کہ جواب میں تمام صورتوں کا احاطہ کیا جائے لہذا جس مخصوص صورت کے بارے میں حکم معلوم کرنا ہو وہ لکھ کر معلوم کریں ۔

2)واضح رہے کہ  چند امور ایسے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی امر کسی وارث میں پایا جائے تو شریعت خود اس وارث کو میراث سے محروم کردیتی ہے، ان امور میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی وارث اپنے مورث کو ایسے طریقے سے قتل کردے کہ جس سے قاتل پر شرعاً قصاص یا کفارہ لازم ہوجائے ،لہذاصورت مسئولہ میں  اگر کسی شخص نے کسی دوسرے کو  دھوکے سے  زہر پلادیا  اور اس کو زہر کے پینے  پر مجبور نہیں کیا تو اس صورت میں وہ شخص سخت گناہ گار اور حرام فعل کا مرتکب ہوگا،اور تعزیری سزا کا مستحق ہوگا، حاکمِ وقت  (قاضی) اُس پر تعزیراً سزا جاری کرے گا اور اس پر لازم ہوگا کہ صدق دل سے توبہ اور استغفار کرے اورآئندہ کےلیے اس طرح کے فعل سے اجتناب کرے۔ لیکن اس پر قصاص یا دیت لازم  نہیں ہوگی اوراگر جس کو زہر پلایا گیا ہے وہ پلانے والے کا مورث ہو تو اس صورت میں زہر پلانے والامیراث سے محروم نہیں ہوگا،یہ حکم اس وقت ہے کہ جب زہر زبردستی نہ پلایا گیا ہو۔اور   اگر اس نے زبردستی زہر پلایا تو اس صورت میں اس پر اور اس کے عاقلہ (خاندان) پر دیت لازم ہوگی اورزہر پلانے والا میراث سےبھی محروم ہو گا اور شرعاً یہ قتلِ  شبہ عمد میں داخل ہوگا،نیز  گلا گھوٹنا، پانی میں ڈوبادینا  بھی شبہ عمد میں داخل ہوگا۔

3) پہلی صورت میں اولاً حتی الامکان اس کے شرعی ورثاء کو تلاش کرکے مرحوم کی جائیداد ان کے درمیان تقسیم کی جاۓ گی اور وہی اس کی جائیداد کے حقیقی وارث ہوں گےاور اور اگر اس  کے کسی بھی وارث کا علم نہ ہوتواگر اس نے سارے مال کی کسی کے لیےوصیت کی ہوگی تو  اس کے سارے مال کا مستحق وہی شخص ہوگا جس کے لیے اس نے موت کے بعد سارے مال کی وصیت لکھی ہو۔ اور اگر کسی کے لیے وصیت نہیں لکھی توبیت المال کے انتظام میں فساد کی وجہ سے اس کی جائیداد  فقراء میں تقسیم کردی جاۓ گی۔

دوسری صورت میں اس کی بیوہ ہی تما م جائدیداد کی مستحق ہوگی۔

نیز دوسری  صورت(کہ اس نے شادی کی ہو) میں اس کی بیوی زندہ ہے یا نہیں؟ پوری تفصیل وضاحت کے ساتھ بھیج دیں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإذا سقى رجلا ‌سما فمات من ذلك، فإن أوجره إيجارا على كره منه، أو ناوله ثم أكرهه على شربه حتى شرب، أو ناوله من غير إكراه عليه، فإن أوجره، أو ناوله وأكرهه على شربه فلا قصاص عليه، وعلى عاقلته الدية، وإذا ناوله فشرب من غير أن أكرهه عليه لم يكن عليه قصاص، ولا دية سواء علم الشارب بكونه ‌سما، أو لم يعلم هكذا في الذخيرة ويرث منه وكذا لو قال لآخر: كل هذا الطعام فإنه طيب فأكله، فإذا هو مسموم فمات لم يضمن كذا في الخلاصة."

(کتاب الجنایات، الباب الثانی،٦/٦ ، ط:دار الفکر)

فتاوی شامی  میں ہے:

"(سقاه ‌سما حتى مات، إن دفعه إليه حتى أكله ولم يعلم به فمات لا قصاص ولا دية لكنه يحبس ويعزر، ولو أوجره) السم (إيجارا تجب الدية) على عاقلته (وإن دفعه له في شربة فشربه ومات) منه (فكالأول) ؛ لأنه شرب منه باختياره إلا أن الدفع خدعة فلا يلزم إلا التعزير والاستغفار، خانية."

(كتاب الجنايات، فصل فيما يوجب القود وما لايوجبه،٥٤٢/٦، ط:سعيد)

"الفقہ الاسلامی وادلتہ" میں ہے:

"ويتحمل القاتل جزءاً من الدية مع العاقلة؛ لأنه هو المطالب أصالة بتحمل جريرة فعله، ودور العاقلة تابع، فهو مطالب بحفظ نفسه من ارتكاب الجرائم، وعاقلته مطالبة أيضاً بحفظه من الجريمة، فإذا لم يحفظوا فرَّطوا، والتفريط منهم ذنب. والقاتل يعتمد على مناصرة عاقلته وحمايتها له، فتشاركه في تحمل تبعة المسؤولية، لا أنها تستقل بتحملها عنه.وبناء على هذا الرأي: إذا لم يكن للجاني عاقلة يرجع بالدية كلها عليه ."

(الباب الثالث، الفصل الاول، المبحث الثالث،٥٧٢٣/٧، ط:دارالفكر)

فتح القدیر میں ہے:

"والتعزير تأديب دون الحد، وأصله من العزر بمعنى الرد والردع. وهو مشروع بالكتاب، قال الله تعالى {فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أمر بضرب الزوجات تأديبا وتهذيبا. وفي الكافي قال عليه الصلاة والسلام «لا ترفع عصاك عن أهلك» وروي «أنه عليه الصلاة والسلام عزر رجلا قال لغيره يا مخنث» . وفي المحيط: روي عنه عليه الصلاة والسلام قال «رحم الله امرأ علق سوطه حيث يراه أهله» وأقوى من هذه الأحاديث قوله عليه الصلاة والسلام «لا يجلد فوق عشر إلا في حد."

(‌‌كتاب الحدود،‌‌فصل في التعزير،٣٤٥/٥،ط : شركة مكتبة ومطبعة)

فتاوی شامی میں ہے:

"و المستحقون للتركة عشرة أصناف مرتبة كما أفاده بقوله: (فيبدأ بذوي الفروض) أي السهام المقدرة وهم اثنا عشر من النسب ثلاثة من الرجال وسبعة من النساء واثنان من التسبب وهما الزوجان (ثم بالعصبات) أل للجنس فيستوي فيه الواحد والجمع وجمعه للازدواج (النسبية) لأنها أقوى (ثم بالمعتق) ولو أنثى وهو العصبة السببية(ثم عصبته الذكور) لأنه ليس للنساء من الولاء إلا ما أعتقن (ثم الرد) على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم (ثم ذوي الأرحام ثم بعدهم مولى الموالاة) كما مر في كتاب الولاء وله الباقي بعد فرض أحد الزوجين ذكره السيد (ثم المقر له بنسب) على غيره (لم يثبت) فلو ثبت بأن صدقه المقر عليه أو أقر بمثل إقراره أو شهد رجل آخر ثبت نسبه حقيقة وزاحم الورثة وإن رجع المقر وكذا لو صدقه المقر له قبل رجوعه وتمامه في شروح السراجية سيما روح الشروح وقد لخصته فيما علقته عليها (ثم) بعدهم (الموصى له بما زاد على الثلث) ولو بالكل وإنما قدم عليه المقر له لأنه نوع قرابة بخلاف الموصى له (ثم) يوضع (في بيت المال) لا إرثًا بل فيئًا للمسلمين."

(كتاب الفرائض ،٧٦٢/٦،ط: سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فلا بد من أهلية التبرع فلا تصح من الصبي، والمجنون؛ لأنهما ليسا من أهل التبرع لكونه من التصرفات الضارة المحضة إذ لا يقابله عوض دنيوي، وهذا عندنا."

(كتاب الهبة ،٣٣٤/٧،ط: رشيدية)

البحر الرائق میں ہے:

" فإنما لا تصح وصيته بما زاد على الثلث ‌إن ‌لم ‌تجز ‌الورثة، وإن أجازوه صحت وصيته به، وأما إذا لم يترك وارثا فتصح وصيته بما زاد على الثلث حتى بجميع ماله عندنا كما تقرر في موضعه فلا بد من التقييد مرتين مرة بأن يكون له وارث، وأخرى بأن لا يجيزه الوارث، والله أعلم".

‌‌[كتاب الوصايا،٤٦٠/٨،ط : دار الكتاب الإسلامي]

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504101537

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں