بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

جادو اور سحر کروانے والوں سے قطع تعلقی کرنے کا حکم


سوال

 ہماری پوری فیملی روحانی مرض میں مبتلا ہے،اور علاج کروانے گئے تو پتہ چلا کہ ہم پر جادو کا اثر ہے اور جن کے پاس علاج کروارے ہیں وہ عالم مفتی ہے ،انکے علم کے حساب سے ہم پر قریبی رشتہ داروں نےکالا جادو کروایا اب الحمد للہ ! اللہ کے کرم سے ہماری طبیعتوں میں سکون اور اطمینان ہوا جب سے ہم علاج کروارہےہیں  لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ان لوگوں سے تعلقات قائم رکھنے چاہیے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ قطع تعلقی کرنے والے کے لیے احادیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں،تاہم  کسی مسلمان سے قطع تعلقی کی جائز صورتیں یہ ہیں :

1 : وہ شخص اعلانیہ فسق و فجور یا بدعات وغیرہ میں مبتلا ہو۔

2 : کسی گناہ میں مبتلا شخص سے اس نیت سے قطع تعلقی کرنا کہ وہ اس کی وجہ سے اس گناہ کو چھوڑ دےگا۔

3 : کسی شخص سے تعلق رکھنے میں دین یا دنیا کے نقصان کا اندیشہ ہو اور قطع تعلقی کرنے والا شخص حق پر نہ ہو۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے صورت مسئولہ میں بلا ثبوت شرعی اسی طرح ان رشتے داروں کی طرف سے کالا جادو کرائے جانے کا شرعی ثبوت یا اقرار نہ پائے جانے کے باوجود ان پر کالا جادو کرانے کا الزام لگانا شرعاً جائز نہیں ہے، کسی بھی جرم کے ثبوت کے لیے شرعاً دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کا پایا جانا ضروری ہے، یا تو مجرم کی طرف سے اقرار ہو، یا مدعی شرعی گواہوں کے ذریعے اس کے جرم کو ثابت کردے، لہذا شرعی ثبوت  یا اقرار کے بغیر مذکورہ عامل کی طرف سے ان رشتے داروں کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے کالا جادو کردیا ہے یہ محض الزام  اور بد گمانی ہے اور یہ دونوں امور جائز نہیں ہیں لہٰذا اس بنا پر ان سے قطع تعلقی اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں ہے-

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"قال: وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق، فإنه صلى الله عليه وسلم لما خاف على كعب بن مالك وأصحابه النفاق حين تخلفوا عن غزوة تبوك أمر بهجرانهم خمسين يوما، وقد هجر نساءه شهرا وهجرت عائشة ابن الزبير مدة، وهجر جماعة من الصحابة جماعة منهم، وماتوا متهاجرين، ولعل أحد الأمرين منسوخ بالآخر.

قلت: الأظهر أن يحمل نحو هذا الحديث على المتواخيين أو المتساويين، بخلاف الوالد مع الولد، والأستاذ مع تلميذه، وعليه يحمل ما وقر من السلف والخلق لبعض الخلف، ويمكن أن يقال الهجرة المحرمة إنما تكون مع العداوة والشحناء، كما يدل عليه الحديث الذي يليه، فغيرها إما مباح أو خلاف الأولى".

(كتاب الآداب، باب ما ينهى عنه من التهاجر و التقاطع و اتباع العورات، ج:8، ص:759، ط:  المكتبة التجارية)

تنبيه الرجل العاقل على تمويه الجدل الباطل میں  ہے؛

''والحكمُ ‌إما ‌بالبيِّنة، ‌أو ‌بالإقرار، أو باليمين، أو بالنكول.''

(فصل في التنافي بين الحكمين ج:1، ص: 400، ط:دار ابن حزم)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408100998

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں