بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

جدید آلات سے حمل نہ ہونے کا معلوم ہونے کے باوجود عدت لازم ہے


سوال

۱۔ جب جدید آلات کے ذریعے معلوم ہوجاۓ عدم حمل کا تو پھر عدت کیوں ہے؟

۲۔ عورت خود خلع لے،  طلاق شوہر کی طرف سے نہ ہو اور اسکو چار یا پانچ  سال یا زیادہ عرصہ گزر جاۓ تو اس کے بعد ان کی آپس میں صلح ہو تو اس صورت میں نکاح جدید ہوگا یا بغیر نکاح کے ساتھ رہ سکتے ہیں؟

جواب

۱۔ واضح ہو کہ کسی بھی عمل کی  ایک علت (وجہ) ہوتی ہے اور ایک حِکمت (فائدہ) ہوتی ہے اور عمل کا مدار علت پر ہوتا ہے نہ کہ حکمت پر ۔  

اس کے بعد یہ جاننا چاہیے کہ شریعت کے حکم (مثلاً عورت کا عدت گزارنا) کا مدار بھی علت پر ہوتا ہے، نہ کہ حکمت پر۔

صورت مسئولہ میں عورت کے عدت گزارنے کی علت اللہ کا حکم ہے، اور عدت کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ اس سے عورت کے حاملہ ہونے یا نہ ہونے کا معلوم ہوجاتا ہے۔ تاہم عدت کی علت عورت کا حمل جاننا نہیں ہے،  لہذا عورت کی عدت کا مدار حمل معلوم کرنے پر نہ سمجھا جائے بلکہ اللہ کا حکم پورا کرنے کو سمجھا جائے اور اللہ کا حکم چونکہ قیامت تک ایسے ہی رہے گا، لہذا لوگوں کے احوال بدلنے سے، سائنسی ترقی ہونے سے، اس حکم پر فرق نہیں پڑے گا اور قیامت تک عورت کو طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد عدت گزارنی ہوگی۔

نیز یہ بھی جاننا چاہیے کہ عدت کی صرف ایک حکمت، یعنی حمل کا جان لینا،  نہیں ہے، بلکہ اس کی کئی حکمتیں اور ہیں۔ ان حکمتوں میں سے ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ اسلام میں خاندانی نظام کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے، اسی اہمیت کے پیشِ نظر نکاح کے ختم ہونے کا اثر عدت کے حکم کی وجہ سے طویل المدتی ہے، جس سے لوگوں کو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ نکاح کا رشتہ ایسا غیر اہم نہیں ہے کہ وہ ختم ہوجائے اور زندگی پر کوئی فرق نہ پڑے اور کھیل تماشے کی طرح اس اہم رشتے کو جب چاہا جائے، ختم کر دیا جائے!

۲۔ اگر عورت نے خلع لیا ہو لیکن شوہر نے اسے زبانی یا تحریری طور پر قبول نہ کیا ہو اور کوئی طلاق بھی نہ دی ہو تو میاں بیوی کا رشتہ باقی ہے، تجدیدِ نکاح کے بغیر  دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں۔

البحر المحيط في أصول الفقه میں ہے :

" وفرق غيره بين السبب والحكمة, بأن السبب يتقدم على الحكم, والحكمة متأخرة عن الحكم, والحكم مفيد لها, كالجوع سبب الأكل, ومصلحة رفع الجوع وتحصيل الشبع حكمة له."

(كتاب القياس، الباب السادس في أركانه، الركن الرابع: العلة، ج4، ص105، دار الكتب العلمية)

حجة الله البالغة  میں ہے :

"الحكمة من العدة:

قال اللّه تعالى: {وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ} إلى آخر الآيات.

اعلم أن العدة كانت من المشهورات المسلمة في الجاهلية، وكانت مما لا يكادون يتركونه، وكان فيها مصالح كثيرة:

منها معرفة براءة رحمها من مائه، لئلا تختلط الأنساب، فإن النسب أحد ما يتشاح به، ويطلبه العقلاء، وهو من خواص نوع الإِنسان، ومما امتاز به من سائر الحيوان، وهو المصلحة المرعية في باب الاستبراء.

ومنها التنويه بفخامة أمر النكاح حيث لم يكن أمراً ينتظم إلا بجمع رجال، ولا ينفك إلا بانتظار طويل، ولولا ذلك لكان بمنزلة لعب الصبيان ينتظم، ثم يفك في الساعة.

ومنها أن مصالح النكاح لا تتم حتى يوطنا أنفسهما على إدامة هذا العقد ظاهراً، فإن حدث حادث يوجب فك النظام لم يكن بد من تحقيق صورة الإِدامة في الجملة بأن تتربص مدة تجد لتربصها بالاً، وتقاسي لها عناءً.

(من أبواب تدبير المنزل، ج2، ص377، دار أحياء العلوم)

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله: فالأولى إلخ) بيان لحكمة كونها ثلاثا مع أن مشروعية العدة لتعرف براءة الرحم أي خلوه عن الحمل وذلك يحصل بمرة فبين أن حكمة الثانية لحرمة النكاح أي لإظهار حرمته، واعتباره حيث لم ينقطع أثره بحيضة واحدة في الحرة والأمة، وزيد في الحرة ثالثة لفضيلتها."

(كتاب الطلاق، باب العدة، ج3، ص505، سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144405101789

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں