بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

’’جب بھی میں زور سے ہنسوں تو مجھ پر بیس روپے لازم ہوں گے‘‘ جملہ کہنے سے نذر کا حکم


سوال

تین سال پہلے میں نے یہ کہا تھا کہ "اگر اس کے بعد جب بھی میں زور سے ہنسا تو مجھ پر بیس روپے لازم ہیں"، پھر میں نے ایک مفتی صاحب سے پوچھا تھا جلدی میں، اس نے کہا کہ اس طرح نذر واقع نہیں ہوتی۔ اب مجھے یہ خیال آیا ہے کہ شاید وہ مفتی صاحب جلدی میں نہ سمجھا ہو، تو کیا اس طرح نذر واقع ہوئی اور ہر بار قہقہہ کے پیسے مجھ پر صدقہ کرنا لازم ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر   آپ نے یہ نذر مانی تھی کہ   ’’جب بھی میں قہقہے کے ساتھ ہنسوں تو مجھ پر بیس روپے لازم ہیں‘‘  تو آپ پر لازم ہے کہ ہر قہقہہ کے بدلہ بیس روپے صدقہ کریں، اگر گزشتہ عرصہ میں قہقہوں کی تعداد یاد نہیں ہے تو تخمینہ کے ذریعہ ایک تعداد ذہن میں رکھ کر اس کے حساب سے رقم ادا کریںن۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201201457

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں