بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

جائے نماز پر استری کرنا / پندرہ شعبان کا روزہ / تصویر دیکھنا


سوال

1- کیا جائے نماز پر کپڑے استری کر سکتے ہیں؟

2- شبِ براءت کے روزے  کے متعلق تفصیل ارشاد فرمادیں۔

3- جس طرح تصویر کھینچنا یا بنوانا ناجائز اور حرام ہے، کیا اسی طرح تصویر دیکھنا بھی ناجائز ہے؟

جواب

1  ۔ جائے نماز کو دوسرے کاموں میں استعمال کرنا فی نفسہ جائز ہے، لیکن ادب کا تقاضا یہ ہے کہ جس چیز کو نماز کے لیے مختص کیا گیا ہے، جب تک وہ نماز پڑھنے کے لیے استعمال ہورہی ہو  اسے دوسرے کاموں مثلاً استری وغیرہ  میں بغیر ضرورتِ شدیدہ کے استعمال نہ کیا جائے۔

2۔  پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے، حدیث شریف سے ثابت ہے، اسے ناجائز سمجھنا اور اس دن روزہ والوں کو طعنہ دینا یا اس دن کے روزے کو لازم سمجھنا اور نہ رکھنے والوں کو طعنہ دینا یہ سب افراط و تفریط اور غلط ہے، سنن ابنِ ماجہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : "رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات ہو تو رات کو عبادت کرو اور آئندہ دن روزہ رکھو، اس لیے کہ اس میں غروبِ شمس سے طلوعِ فجر ہونے تک آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ نزول فرماتے ہیں اور یہ کہتے ہیں :ہے کوئی مغفرت کا طلب گار کہ میں اس کی مغفرت کروں! ہے کوئی روزی کا طلب گار کہ میں اس کو روزی دوں! ہے کوئی بیمار کہ میں اس کو بیماری سے عافیت دوں ہے ! یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے "۔

اس روایت کی سند میں اگرچہ کلام ہے، لیکن مجموعہ روایات اور سلفِ صالحین کے تلقی بالقبول (یعنی اس کے مطابق عمل کرکے اسے قبول کرنے) کی بنا پر یہ روزہ مستحب ہے۔

"وَمِنْهَا حَدِيثُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا؛ فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ! أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ! أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ! أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ. رواه بن مَاجَهْ". (بَاب مَا جَاءَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، ٣ / ٣٦٦ - ٣٦٧، ط: دار الكتب العلمية)

3۔ جان دار اشیاء  کی تصاویر  دیکھنا بھی جائز نہیں ہے، اور اگر  تصویر انسان کی ہو، خواہ عورت کی ہو یا مرد کی اور اس میں اس  کا ستر واضح ہو، یا نامحرم کی ہو  تو  اس میں بد نظری کا گناہ بھی ہوگا۔ اور اگر اس میں  ستر نظر نہ آرہا ہو، لیکن دیکھ کر فرحت یا لذت محسوس ہو تو بھی ناجائز ہے؛ اس لیے کہ حرام چیز کو دیکھ کر خوش ہونا بھی ناجائز ہے، اسی لیے تصاویر کو تلف کرنے کا حکم ہے۔ البتہ اگر ارادے کے بغیر اس پر نگاہ پڑ جائے تو اس میں حرج نہیں۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے :

"(وَحَرُمَ الِانْتِفَاعُ بِهَا) وَلَوْ لِسَقْيِ دَوَابَّ أَوْ لِطِينٍ أَوْ نَظَرٍ لِلتَّلَهِّي". ( شامي، کِتَابُ الْاَشْرِبَةِ، ٦ / ٤٤٩، ط: دار الفكر)

ترجمہ: شراب سے نفع اٹھانا حرام ہے، اگرچہ چوپایوں کو پلانے، گارے میں ملانے کے لیے ہو یا محض لذت کے طور پر دیکھنے کے لیے ہو۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200805

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں