بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

اضافی ایک لاکھ روپے رکھوا کر ہول سیلر سے ڈسکاؤنٹ لینا


سوال

ایک دوکان دار شخص ہول سیلر کے پاس جاتا ہے جس سے وہ ریگولر کام کرتا رہتا ہے اور کہتا ہے کہ میں آپ کو اضافی لاکھ روپےرکھوادیتا ہوں،  لیکن مجھے آپ ہر آڈر پر ڈسکاؤنٹ دے دیں ، مطلب ایک یونٹ پر سو روپے ڈسکاؤنٹ یا ہر بل پر پانچ فیصد ڈسکاؤنٹ دے دیں تو کیا ایک لاکھ روپے  لے کر ہول سیلر کا اپنے گاہگ کو ذکر کردہ طریقے کے مطابق ڈسکاؤنٹ دینا جائز ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ ایک لاکھ روپے قرض ہے اور قرض کے بدلے میں مشروط یا معروف نفع وصول کرنا (جس کی ایک شکل قرض کی وجہ سے ملنے ولاا ڈسکاؤنٹ بھی ہے)  سود ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے؛  لہذا مذکورہ طریقے سے حاصل ہونے  والا ڈسکاؤنٹ ناجائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"( كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر".

(کتاب البیوع، فصل في القرض، مطلب كلّ قرض جرّ نفعًا حرام، (5/ 166)،ط. سعيد،كراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101080

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں