بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

مردوں کے لیے بیٹھک میں اعتکاف کا حکم


سوال

 ہم اپنی بیٹھک میں نماز اور تراویح پڑھتے ہیں، مسجد نہیں جاتے ہیں ،کیا ہم پر اعتکاف ضروری ہے ؟

جواب

  واضح رہے کہ مسجد میں  رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے، یعنی اگر بعض مسلمانوں نے اعتکاف کرلیا تو تمام اہلِ محلہ کے ذمہ سے  ساقط ہوجائے گا، اور اگر پورے  محلے  میں کسی نے بھی (یعنی مسجد کے امام، مؤذن یا مسجد کے عملے ،محلے کے افراد میں سے)   کسی فرد نے  بھی اعتکاف نہیں  کیا  ،تو تمام اہلِ محلہ گناہ گار ہوں گے، ایسی صورت میں سب کو استغفار کرنا چاہیے، اور اگر مسجد کے امام، مؤذن، خادم یا انتظامیہ میں سے کوئی بھی اعتکاف میں بیٹھ جائے تو اہلِ محلہ کی طرف سے سنتِ کفایہ ادا ہوجائے گی ۔

اور مردوں کے لیے مساجد میں اعتکاف کرنا شرط ہے ، مساجد کے علاوہ مصلوں اور گھروں میں اعتکاف کرنا  شرعاً جائز نہیں ہے، اگر مرد گھر پر  اعتکاف کرے گا تو اس کا اعتکاف درست نہیں ہوگا، البتہ خواتین کے لیے اپنے گھر میں جگہ مقرر کرکے اعتکاف کرنے کا حکم ہے،مردوں کے لیے ہر قسم کے اعتکاف کے  لیے مسجد شرعی  کا ہونا ضروری ہے۔صورت مسئولہ میں سائل کے  لیے بیٹھک میں اعتکاف کرنا شرعا درست نہیں ،اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ مسجد میں اعتکاف کرتے ہوئے تراویح  کے لیے بیٹھک آئے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

(هو) لغة: اللبث وشرعا: (لبث) بفتح اللام وتضم المكث (ذكر) ولو مميزا في (مسجد جماعة) هو ما له إمام ومؤذن أديت فيه الخمس أو لا،وعن الإمام اشتراط أداء الخمس........ومقتضاه أنه يندب للرجل أيضا أن يخصص موضعا من بيته لصلاته النافلة أما الفريضة والاعتكاف فهو في المسجد كما لا يخفى.

(رد المحتار ، کتاب الصوم، باب الإعتکاف، ج:2  ص:441 ط:سعید) 

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"(وأما شروطه) فمنها النية حتى لو إعتكف بلا نية لايجوز بالإجماع، كذا في معراج الدراية. ومنها مسجد الجماعة فيصح في كل مسجد له أذان وإقامة هو الصحيح، كذا في الخلاصة."

 (الفتاوي الهندية، كتاب الصوم، الباب السابع: في الإعتكاف، ج:1 ص:211 ط:رشيدية)

فقط والله اعلم.


فتوی نمبر : 144408102482

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں