بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

استنجاء کے وقت شرم گاہ پر ہاتھ پھیرنا


سوال

مرد کو استنجاء کرنے کے لیے ذَكر  پر پانی بہانے کے ساتھ ہاتھ پھیرنا ضروری ہے؟ جب کہ وہ ٹشو پیپر وغیرہ استعمال نہیں  کرتے ہوں، جیسے عموماً  ہمارے پاکستان میں ہوتا ہے کہ صرف پانی ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ  مرد کے  لیے  ضروری ہے کہ   پیشاب  سے  فارغ  ہونے  کے بعد  پیشاپ کے  قطروں  کے ازالہ  کی تدبیر کرے یہاں تک کہ اس کا  دل مطمئن ہوجائے ،اس ازالہ تدبیر کو فقہاء کی اصطلاح میں استبرا کہتے ہیں ،اس میں فقہاء نے   لوگوں کے طبائع کے اعتبار سے کہ بعض بہت جلد فارغ ہو جاتے ہیں اور بعض تھوڑی دیر سے  مختلف صورتیں ذکر کی ہیں ،منجملہ ان صورتوں میں یہ ہے کہ   کھانس لے ،کچھ دیر ٹہل لے ، بائیں پاؤں کو داہنے پاؤں پر چڑھا کر دبائے ،یا نرمی سے اپنے ذکر کو نچڑ لے  وغیرہ، استبرا کے بعد حکم یہ ہے کہ وہ استنجاء کر لے ،چاہے صرف پتھر یا ٹشو پیپر کا استعمال کرے ،یا صرف پانی کا استعمال کرے ،یہ زیادہ پسندیدہ ہے،یا دونوں کا استعمال کرے  یہ افضل ترین صورت ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ  میں  پانی بہانے کے ساتھ ذکر پر ہاتھ پھیرنا یا  اس کو نچوڑنا ضروری نہیں ہے ،البتہ قطرے آنے کی صورت میں قطروں کے ازالہ کی تدبیر   چاہے وہ ٹہل کر ہو ،یا بائیں پاؤں کو  داہنے پاؤں پر چڑھا کر دبانے سے ہو یا کھانس کر ہو یا یا نرمی سے اپنے ذکر کو نچوڑ  کر ہو  (اپنی طبیعت کے لحاظ سے )دل کے اطمینان  تک    لازم ہے  ،اس کے بعد   پاکی حاصل کرنے کے لیے بہر صورت  استنجاء    سنت ِ موکدہ ہے۔بہرحال قطروں سے اطمینان کے لیے شرمگاہ کی نس پر انگلی پھیری جاسکتی ہے؛  تاکہ قطرے نکل جائیں  اور پورے شرمگاہ پر بایاں ہاتھ اس وجہ سے پھیرنا طہارت حاصل ہوجائے وہ بھی درست ہے۔جو کچھ درست نہیں ہے وہ یہ ہے کہ شرمگاہ سے لذت کے لیے کھیلا جائے ۔

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

"هو قلع النجاسة بنحو الماء ومثل القلع التقليل بنحو الحجر "يلزم الرجل الاستبراء"عبر باللازم لأنه أقوى من الواجب لفوات الصحة بفوته لا بفوت الواجب والمراد طلب براءة المخرج عن أثر الرشح "حتى يزول أثر البول" بزوال البلل الذي يظهر على الحجر بوضعه على المخرج "و" حينئذ "يطمئن قلبه" أي الرجل ولا تحتاج المرأة إلى ذلك بل تصبر قليلا ثم تستنجي واستبراء الرجل "على حسب عادته إما بالمشي أو بالتنحنح أو الاضطجاع" على شقه الأيسر "أو غيره" بنقل أقدام وركض وعصر ذكره برفق لاختلاف عادات الناس فلا يقيد بشيء "ولا يجوز" أي لا يصح "له الشروع في الوضوء حتى يطمئن بزوال رشح البول" لأن ظهور الرشح برأس السبيل مثل تقاطره يمنع صحة الوضوء۔"

(کتاب الطہارۃ ،فصل فی الاستنجاء،ص:43 ،ط:دار الکتب العلمیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"يجب الاستبراء بمشيأو تنحنح أو نوم على شقه الأيسر، ويختلف بطباع الناس  مطلب في الفرق بين الاستبراء والاستنقاء والاستنجاء (قوله: يجب الاستبراء إلخ) هو طلب البراءة من الخارج بشيء مما ذكره الشارح حتى يستيقن بزوال الأثر. وأما الاستنقاء هو طلب النقاوة: وهو أن يدلك المقعدة بالأحجار أو بالأصابع حالة الاستنجاء بالماء. وأما الاستنجاء: فهو استعمال الأحجار أو الماء، هذا هو الأصح في تفسير هذه الثلاثة كما في الغزنوية. وفيها أن المرأة كالرجل إلا في الاستبراء فإنه لا استبراء عليها، بل كما فرغت تصبر ساعة لطيفة ثم تستنجي، ومثله في الإمداد ۔۔قوله: ويختلف إلخ) هذا هو الصحيح فمن وقع في قلبه أنه صار طاهرا جاز له أن يستنجي؛ لأن كل أحد أعلم بحاله ضياء۔"

(کتاب الطہارۃ ،فروع فی الاستبراء،ج:1،ص:345،ط:سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"والاستبراء واجب حتى يستقر قلبه على انقطاع العود. كذا في الظهيرية قال بعضهم: يستنجي بعدما يخطو خطوات وقال بعضهم: يركض برجله على الأرض ويتنحنح ويلف رجله اليمنى على اليسرى وينزل من الصعود إلى الهبوط والصحيح أن طباع الناس مختلفة فمتى وقع في قلبه أنه تم استفراغ ما في السبيل يستنجي. هكذا في شرح منية المصلي لابن أمير الحاج والمضمرات۔"

(کتاب الطہارۃ ،صفۃ الاستنجاء بالماء،ج:1،ص:49،ط:رشیدیہ)

نور الایضاح میں ہے:

"ويسن أن يستنجى بحجر منق ونحوه والغسل بالماء احب والأفضل الجمع بين الماء والحجر فيسمح ثم يغسل ويجوز أن يقتصر على الماء أو الحجر والسنة إنقاء المحل۔"

(کتاب الطہارۃ ،فصل فی الاستنجاء ،ص:17،ط:المکتبۃ العصریہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501100923

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں