بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

استنجا کے بعد پاؤں اور فرش وغیرہ پر پانی ڈالنا


سوال

 نجاست  چاہے پاخانہ، پیشاب، منی، مذی، خون یا کچھ بھی ہو اس کی مقدار کم ہوتی ہے، لیکن جسم سے اس نجاست کو پاک کرنے والے پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ تین مرتبہ جب تک جسم دھل نہ جائے جہاں نجاست لگی تھی، تب تک وہ پانی بھی ناپاک ہے۔ آج کے دور میں پیشاب کرنے کی جگہ اور ہاتھ دھونے کی جگہ اور غسل کی جگہ سب جگہیں سخت فرش کی بنی ہوتی ہیں جہاں سے پانی لگ کر اچھلتا ہے۔ استنجا  بہت ہی احتیاط سے کرو پھر بھی شرم گاہوں پر ہاتھ چلانا تو پڑتا ہے سو چھینٹیں جو ناپاک ہیں وہ پاؤں پر اور فلش کے ارد گرد پڑتی ہیں۔

 فلش سے نیچے اتر کر ساتھ ہی جو غسل کی جگہ ہے وہاں کھڑے ہو کر فلش کی جگہ کو تین بار نہایت احتیاط سے دھویا کہ سخت جگہ سے پانی اچھل کر لوٹے پر نہ آئے، پھر غسل والی جگہ پر ہی کھڑے کھڑے پہلے ایک پاؤں کو تین بار دھویا احتیاط سے کہ چھینٹیں واپس فلش والی جگہ پر نہ جائیں سو اس پاؤں کو دھو کر وہ پاؤں فلش والی جگہ جو پہلے ہی دھل چکی ہے وہاں رکھ دیا، پھر اسی طرح دوسرا پاؤں بھی دھویا اور فلش والی جگہ پر رکھ دیا، یعنی پورا ہی فلش والی جگہ پر چڑھ گیا، اب غسل والی جگہ کی دیواریں جو پاؤں دھوتے وقت چھینٹیں لگنے سے گندی ہو گئیں تھیں؛ کیوں کہ پاؤں پر استنجا کی چھینٹیں تھیں، سو اب دیواروں کو بھی اور غسل والی جگہ کو بھی دھویا،  وجہ یہ ہے کہ وہیں وضو جو کرنا ہے غسل والی جگہ پر۔ یہ سب کرنے  میں  کوئی ایک گھنٹے کا وقت اور بہت سارا پانی خرچ ہو جاتا ہے۔

آپ سے پوچھنا تھا کہ اگر ایسا نہیں کرنا  چاہیے تو کیسے کرنا  چاہیے؟

 نوٹ:   فلش وہ ہے جس پر نیچے بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوتے ہیں، وہ سیٹ والا نہیں ہے۔  اور دوسری بات استنجا  میں احتیاط بھی برتی جاتی ہے اور استنجا  کی ناپاک چھینٹیں یقین ہے کہ پاؤں اور فلش پر پڑتی ہیں۔ یہ وہم نہیں ہے۔

جواب

اگر استنجا کے دوران ناپاک پانی کی بالکل باریک چھینٹیں (سوئی کی نوک کی طرح) لگ جائیں تو وہ معاف ہیں، اگر چھینٹیں اس سے بڑی ہوں اور پاؤں پر لگ جائیں تو  استنجا سے فارغ ہوکر اپنی جگہ پر ہی رہتے ہوئے  دونوں پاؤں  دھو لے، اور اس پر ایک مرتبہ اتنا پانی بہا لینا کافی ہے جس سے چھینٹوں کا اثر زائل ہوجائے، پھر اگر وہ پانی بہہ کر غسل اور وضو کی جگہ بھی گیا ہو تو وہاں بھی  لوٹے وغیرہ سے پانی بہا دے تو وہ فرش پاک ہی متصور ہو گا، اور اس میں بہت زیادہ پانی بہانے یا وقت صرف کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ایک آدھ منٹ میں ایک دو لوٹے بہاکر بھی یہ مقصد پورا ہوجاتاہے۔ اور  اگر یہ عمل بیٹھے بیٹھے ہی کیا جائے تو دیواروں پر چھینٹے پڑنے کا  بھی کوئی خطرہ نہیں،  اس کے بعد غسل یا وضو والی جگہ جا کر وضو کر لے، اس میں زیادہ تکلف کرنے کی ضرورت نہیں۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200572

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں