بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

استخارہ حق میں ہونے کی پہچان


سوال

استخارہ  میں ہمیں  کیسے پتہ لگے گا کہ فیصلہ حق میں ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں استخارہ کے مسنون عمل کے بعد جس طرف دل مائل ہو وہ کام کرلیا جاے، اگر ایک دفعہ میں قلبی اطمینان حاصل نہ ہو تو سات دن تک  استخارہ کرے، ان شاء اللہ خیر ہوگی۔استخارہ میں خواب آنا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ اصل بات قلبی رجحان اور اطمینان ہے۔

استخارہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دن رات میں کسی بھی وقت بشرطیکہ وہ نفل کی ادائیگی کا مکروہ وقت نہ ہودو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھیں،نیت یہ ہو کہ میرے سامنے یہ معاملہ یا مسئلہ ہے ، اس میں جو راستہ میرے حق میں بہتر ہو ، اللہ تعالی اس کا فیصلہ فرمادیں ۔ سلام پھیر کر نماز کے بعد استخارہ کی مسنون دعا مانگیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی ہے،استخارے کے بعد  جس طرف دل مائل ہو وہ کام کرلیا جائے۔ 

عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی میں ہے:

"أخبرنا أبو العباس بن قتيبة العسقلاني، حدثنا عبيد الله بن الحميري، ثنا إبراهيم بن العلاء بن النضر بن أنس بن مالك، ثنا أبي ، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أنس، إذا هممت بأمر فاستخر ربك فيه سبع مرات، ثم انظر إلى الذي يسبق إلى قلبك، فإن الخير فيه."

(باب كم مرة يستخير الله عز وجل، ص:551، ط:مؤسسة علوم القرآن)

فتاوی شامی میں ہے:

"وينبغي أن يكررها سبعا، لما روى ابن السني «يا أنس إذا هممت بأمر فاستخر ربك فيه سبع مرات، ثم انظر إلى الذي سبق إلى قلبك فإن الخير فيه."

(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:28، ط:سعید)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144502101677

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں