بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

استطاعت کے باوجود عقیقہ نہ کرنا


سوال

اگر استطاعت ہونے کے باوجود کسی کا عقیقہ دیا ہی نہیں جاتا تو اس سے کیا گناہ یا نقصان ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے؟

جواب

 صاحبِ استطاعت شخص کے لیے اپنی اولاد کا عقیقہ کرنا مسنون  (مستحب)  ہے، لیکن اگر کوئی شخص  استطاعت کے باجود اپنی اولاد کا عقیقہ نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ  نہیں  ہے۔ البتہ باوجود استطاعت کے عقیقہ نہ کرنے سے آدمی عقیقہ کے ثواب سے محروم کہلائے گا، لہٰذا صاحبِ استطاعت شخص کو اولاد کا عقیقہ کرلینا چاہیے، کیوں کہ ایک حدیث کی روشنی میں بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ عقیقہ نہ کرنے کی صورت میں بچے کے نقصان یا والدین کے لیے بعض صورتوں میں مواخذے کا سبب ہوسکتاہے۔

استطاعت ہونے کی صورت میں عقیقہ کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے، احادیث میں رسول اللہ ﷺنے اس کی ترغیب بیان فرمائی ہے۔ملاحظہ ہو:

مشكاة المصابيح - (2 / 443)

 عن سلمان بن عامر الضبي قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " مع الغلام عقيقة فأهريقوا عنه دما وأميطوا عنه الأذى " . (رواه البخاري )

ترجمہ:" حضرت سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا " لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کرنا ( مسنون یا مستحب ) ہے لہٰذا اس کی طرف سے جانور ذبح کرو اور اس سے ایذاء ( یعنی اس کے سر کے بال اور میل کچیل ) دور کرو ) ۔ "

مشكاة المصابيح - (2 / 444)

" وعن الحسن عن سمرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " الغلام مرتهن بعقيقته تذبح عنه يوم السابع ويسمى ويحلق رأسه " .

ترجمہ:" اور حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ہر ( بچہ ) اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے ( اس کی پیدائش کے ) ساتویں دن اس کے ( عقیقہ کے ) لیے ( جانور ) ذبح کیا جائے، ( ساتویں ہی دن ) اس کا نام رکھا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے ۔ "

اس حدیث کی شرح میں علامہ نواب قطب الدین خان دہلویؒ مظاہر حق میں لکھتے ہیں :

"ظاہر ہے کہ بچہ  چوں کہ مکلف نہیں ہے کہ اگر اس کا عقیقہ نہ کیا جائے تو اس کے ماخوذ و معتوب ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو گا ، اس صورت میں بجا طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر عقیقہ کے عوض بچے کے گروی ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ چنانچہ حضرت امام احمد نے تو اس ارشاد گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ بیان کیا ہے   کہ جس بچے کا عقیقہ نہیں ہوتا اور وہ کم سنی میں مر جاتا ہے تو اس کو اپنے والدین کی شفاعت کرنے سے روک دیا جاتا ہے کہ جب تک والدین اس کا عقیقہ نہ کر دیں  وہ اس کے حق میں شفاعت کرنے کا اہل نہیں ہو گا ۔ بعض حضرات نے یہ معنی بیان کیے ہیں کہ جب تک والدین بچہ کا عقیقہ نہیں کرتے اس کو بھلائیوں،  سلامتی آفات اور بہتر نشو نما سے باز رکھا جاتا ہے، اور  پھر اس کے جو برے نتائج پیدا ہوتے ہیں وہ حقیقت میں والدین کے مواخذہ کا سبب بنتے ہیں کہ ترکِ عقیقہ انہوں نے ہی کیا ہے،  اور بعض یہ کہتے ہیں کہ گروی ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ بچہ اپنے بالوں وغیرہ کی گندگی و اذیت میں مبتلا رہتا ہے ۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے ۔  "فأمیطوا عنه الأذی" ( بچے کو اذیت سے ہٹاؤ )  یعنی اس کے بال میل کچیل اور خون وغیرہ صاف کرو ) لہٰذا جب بچہ کا عقیقہ ہوتا ہے تو وہ گویا سر کے بال وغیرہ صاف ہو جانے سے اس اذیت سے نجات پا جاتا ہے "۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205201446

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں