بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

استعمال شدہ روم کولر میں زکات کا حکم


سوال

کیا استعمال شدہ روم کولر ،جو اچھی حالت میں ہو، کی زکات دی جا سکتی ہے؟ اور زکات کا حساب کس قیمت پر ہوگا؟کیوں کہ اس  کی موجودہ مارکیٹ قیمت ٗ قیمتِ خرید سے زیادہ ہے۔

جواب

واضح رہے کہ روم کولر گھریلو ااستعمال کی چیزوں میں شمار ہوتا ہے جس میں  تجارت کی نیت کے بغیر زکات لازم نہیں ہوتی  اور اگر مذکورہ روم کولر میں  تجارت کی نیت کی گئی ہو  تو  زکات کی ادائیگی میں  قیمتِ فروخت کا اعتبار کیا جائے گا  اور اگر آپ کی مراد روم کولر ہی کو بطورِ زکات دینا ہے تو یہ بھی جائز ہے ، اور اس کو موجود استعمال شدہ حالت میں فروخت کرنے کی صورت میں مارکیٹ میں جو قیمت ہوگی اس قیمت کے اعتبار سے زکات ادا ہوگی، واضح رہے کہ استعمال شدہ چیز زکات میں دینا مناسب نہیں ہے۔

رد المحتار میں ہے:

"(و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم. وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه (نام ولو تقديرا) بالقدرة على الاستنماء.

(قوله: وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية......وكآلات الحرفة وأثاث المنزل."

(کتاب الزکاۃ،ج:2،ص:262،ط:سعید)

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما الذي ‌يرجع ‌إلى ‌المؤدی فمنها أن يكون مالا متقوما على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أو لا، من جنس المال الذي وجبت فيه الزكاة أو من غير جنسه. والأصل أن كل مال يجوز التصدق به تطوعا يجوز أداء الزكاة منه وما لا فلا وهذا عندنا."

(كتاب الزكاة،فصل شرائط ركن الزكاة،فصل الذي يرجع إلى المؤدي،ج:2،ص:41،ط:دار الكتب العلمية)

الدر المختار  ميں ہے :

"والأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة."

(کتاب الزکات،‌‌باب السائمة،ص128،ط: دار الكتب العلمية)

وفیه أیضاً:

"‌وتعتبر ‌القيمة ‌يوم ‌الوجوب، ‌وقالا ‌يوم ‌الأداء. ‌وفي ‌السوائم ‌يوم ‌الأداء ‌إجماعا، ‌وهو ‌الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح.

 (قوله: وهو الأصح) أي كون المعتبر في السوائم يوم الأداء إجماعا هو الأصح فإنه ذكر في البدائع أنه قيل إن المعتبر عنده فيها يوم الوجوب، وقيل يوم الأداء اهـ.وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندهما."

(‌‌كتاب الزكاة،‌‌باب زكاة الغنم،ج:2،ص:286،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101178

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں